حیات قدسی — Page 106
1+7 باندھو اور ان کو چارہ دانہ کھلاؤ۔اور اسی وقت پلنگ بچھا کر ہمیں اپنے ساتھ بیٹھنے کو کہا۔میں نے چوہدری صاحبداد سے پوچھا یہ کیا معاملہ ہے۔اس نے بتایا کہ بعض علماء نے کسی کے کہنے پر کہ میں ولی اللہ کا درجہ نبی اللہ سے افضل سمجھتا ہوں ان لوگوں کو ہمارے گاؤں میں جمع کیا ہے۔اور مجھے کہا کہ آپ اس ملحدانہ عقیدہ سے تو بہ کریں ورنہ ہم آپ پر کفر کا فتویٰ لگائیں گے۔میں نے ان کے جواب میں علماء کے سامنے یہ بات پیش کی ہے کہ ولی اللہ کے کیا معنے ہیں اور رسول اللہ کے کیا معنی ہیں انہوں نے کہا ہے کہ ولی اللہ کے معنے خدا کا دوست ہے اور رسول کے معنے خدا کا ایلچی ہے اس کے بعد میں نے تمام لوگوں کے سامنے ان علماء سے پوچھا ہے کہ اب آپ خدا را بتا ئیں ان دو میں سے مرتبہ کے لحاظ سے کون افضل ہوتا ہے ایلچی یا دوست۔تب سب لوگوں نے یک زبان ہو کر بتایا ہے کہ واقعی اینچی کے مقابلہ میں دوست کا مرتبہ بڑا ہوتا ہے۔اب جبکہ یہ علماء کرام اپنے کئے ہوئے معنوں سے شرمندہ ہو چکے ہیں تو مجھے معلوم ہوا ہے کہ انہوں نے آپ کو بلایا ہے سو آپ تو جانتے ہی ہیں کہ ان علماء نے مجھے تو اب کا فر بنایا ہے مگر آپ کے متعلق تو بہت پرانا فتویٰ ہے کہ آپ کا فر ہیں۔ان علماء نے جب چوہدری صاحبداد کی یہ بات سنی تو بلند آواز سے کہا کہ یہ بالکل جھوٹ ہے ہم نے کبھی بھی مولوی راجیکی صاحب کو کا فرنہیں کہا اور نہ ہی ان کے مرزا صاحب اور ان کی جماعت کے متعلق کبھی کوئی ایسا فقرہ بولا ہے۔میں نے کہا الحمد للہ کہ آپ لوگوں نے اپنے فتویٰ کفر سے رجوع کر لیا ہے۔اس کے بعد جب تمام علماء نے یک زبان ہو کر مجھے اپنی نمائندگی کا حق دیا تو چوہدری صاحبداد نے کہا کہ اچھا اگر مولوی صاحب ان معنوں کے علاوہ کوئی اور معنے کریں گے تو کیا وہ آپ لوگوں کو منظور ہوں گے۔سب لوگوں نے یک زبان ہو کر کہا کہ ہاں وہ معنے ہمیں منظور ہیں۔ولی اللہ اور رسول اللہ کے الفاظ کی تشریح جس وقت سب علماء اور حاضرین نے مجھے نمائندگی کا حق دیا تو میں نے چوہدری صاحبدا د کو بتایا کہ میرے نزدیک رسول اللہ قرآن کریم کی رو سے وہ ہستی ہوتی ہے جو انسان میں سے مستفیض من اللہ بلا واسطہ ہو اور ولی اللہ وہ ہستی ہے جو مستفیض من الله بواسطۃ الرسول ہو۔بالفاظ دیگر انسانوں میں سے رسول اللہ وہ ہستی ہے جو تبوع الاولیاء ہو اور ولی اللہ وہ ہستی ہے جو تابع الرسول ہو۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضور کے متبعین اولیاء کے حالات پر نظر ڈالنے سے یہ بات بخوبی سمجھ