حیات قدسی — Page 102
اور انہیں مل بھی جائے گا۔اس کے بعد میں نے ایک روحانی تحریک کی بناء پر انہیں ایک تعویذ لکھ دیا۔اور تلقین کی کہ کسی پتھر کی سل کے نیچے دبا دیا جائے۔انشاء اللہ تعالیٰ اگر تمہارا لڑ کا زندہ ہے تو ضرور چالیس روز کے اندر اندر تمہیں اس کی اطلاع مل جائے گی۔چنانچہ ابھی اس تعویذ کے لکھنے پر پندرہ دن ہی گزرے تھے کہ ان کے لڑکے کی چٹھی آگئی کہ میں زندہ ہوں اور لاہور کے پاس فلاں جگہ پر مقیم ہوں اور میں عنقریب آ جاؤں گا۔یہ چٹھی جب ان لوگوں کو ملی تو ان کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی اور اس تعویذ کے اثر پر وہ حیرت زدہ ہو گئے۔موضع پیرکوٹ ثانی کا ایک واقعہ ایسا ہی موضع پیر کوٹ ثانی تحصیل حافظ آباد دضلع گوجرانوالہ جہاں میرے سسرال ہیں وہاں میں ایک دفعہ گھر سے باہر جنگل کی طرف گیا تو وہاں ایک آدمی کو جو کھیت سے چارہ کاٹ رہا تھا میں نے اسے روتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے سنا کہ ہائے میرے خدا بخشا! ہائے میرے خدا بخشا ! میں تجھے کہاں ڈھونڈوں اور کہاں تلاش کروں۔میں نے اس کی یہ چیخ و پکار سنی تو کسی آدمی سے پوچھا کہ یہ کون ہے تو اس نے بتایا کہ یہ علی محمد نیلا ری ہے۔اس کا ایک ہی نوجوان لڑکا ہے جو آٹھ نو ماہ ہوئے گھر سے بھاگا ہوا ہے اس کی وجہ سے یہ بے چارہ اس طرح پاگلوں کی طرح روتا رہتا ہے۔میں نے یہ بات سنی تو گھر چلا آیا دوسرے دن یہی علی محمد اور اس کی بیوی میری بیوی کے بڑے بھائی حکیم محمد حیات صاحب کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ آپ ہماری سفارش کر دیں کہ مولوی صاحب ہمیں خدا بخش کے لئے کوئی تعویذ کر دیں یا دعا فرماویں تا کہ ہمارالڑ کا واپس آ جائے۔برا درم حکیم صاحب نے جب ان کی سفارش کی تو میں نے انہیں بھی ایک تعویذ لکھ دیا اور کہا کہ اس تعویذ کو اپنے مکان کے تاریک گوشہ میں کسی پتھر کے نیچے رکھ دیں انشاء اللہ اگر خدا بخش زندہ ہوا تو چالیس دن کے اندر اندر ضرور اس دعا کی برکت سے آ جائے گا ہاں اگر چالیس دن کے بعد آئے تو سمجھنا کہ یہ میری دعا وتعویذ کا اثر نہیں ہے۔چنانچہ ابھی آٹھ دن ہی گزرے تھے کہ خدا بخش گھر آ گیا اور اس کے بوڑھے ماں باپ نہایت خوش ہو گئے۔اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اب یہ لڑکا میاں خدا بخش مخلص احمدی اور پُر جوش مبلغ ہے۔