حیات قدسی

by Other Authors

Page 103 of 688

حیات قدسی — Page 103

۱۰۳ موضع سہاوا کا ایک واقعہ عبرت ایک دفعہ میاں محمد صدیق صاحب نے جو بابو فخر الدین صاحب مرحوم کے برادر زادہ ہیں مجھ تحصیل سے اور حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ میرے نہال موضع سہا واخ پھالیہ ضلع گجرات کے اکثر لوگ چونکہ جاٹ قوم کے ہیں۔اس لئے آپ دونو بزرگان میرے ساتھ چلیں اور وہاں تبلیغ کریں۔ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے ذریعہ ان لوگوں میں سے کسی کو احمدیت کی توفیق دیدے۔چنانچہ میں اور حافظ صاحب رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ موضع سہا وا پہنچے اور اس گاؤں کے چوپال میں جابیٹھے وہاں کچھ لوگ پہلے ہی جمع تھے ہمارے جانے پر اچھا مجمع ہو گیا اور وہاں کے ایک غیر احمدی مولوی محمد صدیق سے بحث شروع ہو گئی۔اس بحث کے دوران میں ان لوگوں نے یہ شرارت کی کہ جب مولوی محمد صدیق باتیں کرتا تو وہ لوگ خاموشی سے سنتے مگر جب ہم گفتگو شروع کرتے تو وہ لوگ شور مچانا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شان اقدس میں گستاخیاں کرنا شروع کر دیتے اور ان شریر لوگوں میں جو شخص اس وقت سب سے پیش پیش تھا اس کا نام نمو ولد شاہو تھا۔اس شرارت کی روک تھام کے لئے اور طرز گفتگو کو بدلنے کے لئے جب ان لوگوں کو میاں محمد صدیق احمدی اور ان کے نانا صاحب جو شریف غیر احمدی اور اس گاؤں کے پیش امام تھے، نے توجہ دلائی تو ہے اس پر پھر یہی متمو ولد شا ہو چمک کر بولا۔سن او ملاں ! اگر تم نے ان مرزائیوں کی حمائت کی تو پھر اس گاؤں میں تم نہیں رہ سکو گے۔آخر ان کے مولوی سے ہمارے حافظ وزیر آبادی صاحب نے قرآن مجید لے کر جب وفات مسیح کے دلائل سنانے شروع کئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کو پیش کرنا چاہا تو پھر وہی شور و شغب پیدا ہو گیا اور ان کے مولوی نے پھر قرآن مجید ہاتھ میں لے کر اس کے ترجمہ کے حاشیہ سے حیات عیسی اور آسمان کی طرف جانا ثابت کرنا شروع کر دیا۔میں نے جب اس مولوی کے اس ترجمہ کو سنا تو لوگوں کو بتایا کہ یہ ترجمہ کوئی وحی الہی اور الہام کے ماتحت نہیں بلکہ یہ تو کسی مولوی صاحب کا لکھا ہوا ایک حاشیہ ہے۔مگر ہمارے حافظ صاحب کے دلائل قرآن مجید اور احادیث سے سنائے گئے ہیں۔چنانچہ اس کے بعد جب میں نے بسط سے ان دلائل کو پھر دہرایا تو اس کو پر موضع کلسیاں کے ایک ذیلدار نے کہا کہ واقعی جو خدا تعالیٰ اور اس کے رسول کا کلام ہے صحیح تو وہی