حیات قدسی

by Other Authors

Page 631 of 688

حیات قدسی — Page 631

۶۳۱ وقت بھی قریب ہے۔آپ آج رات میرے ہاں تشریف رکھئے آپ کو ہر طرح آرام و سہولت رہے گی۔حضرت مولانا صاحب نے فرمایا کہ میں حضرت مرزا صاحب سے وعدہ کر کے آیا ہوں کہ آج ہی واپس آ جاؤں گا لہذا میں یہاں ٹھہر نہیں سکتا۔میں نے بہر حال آج ہی واپس جانا ہے۔مالک مکان نے عرض کیا کہ حضرت مرزا صاحب کو علم ہے کہ سخت بارش کی وجہ سے راستہ نا قابل گذر ہے اس لئے مجبوری ہے اور قادیان میں کوئی فوری کام بھی درپیش نہیں۔کل آپ کی واپسی کا پورا انتظام ہو جائے گا۔لیکن وعدہ کرنے والے حضرت حکیم الامہ مولانا نور الدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے اور وعدہ اپنے مرشد اور آقا سے تھا۔تخلف کیسے ہوتا۔آپ نے جب دیکھا کہ صاحب الدار اپنی طرف سے از راہ ہمدردی سواری کا انتظام کرنے کے لئے تیار نہیں اور وقت زیادہ ہو رہا ہے تو آپ بغیر اطلاع بیٹھک سے نکل کر پیدل قادیان کے لئے روانہ ہو گئے۔راستہ جابجا کیچڑ ، دلدل اور پانی سے بھرا ہوا تھا اور اوپر سے بارش ہو رہی تھی۔حضرت مولانا صاحب جسم کے بھاری بھر کم اور چلنے میں ست اور بھی الستیر تھے۔بڑی دقت سے ابھی چند قدم ہی طے کئے تھے کہ دلدل میں پھنس گئے آخر مجبوراً جوتے اتار کر اُفتان و خیزاں آگے بڑھے۔سنگریزوں اور کانٹوں کے چھنے کی وجہ سے پاؤں چھلنی اور لہولہان ہو گئے۔اور آپ جوشِ عشق اور جذبہ اطاعت میں گرتے پڑتے تقریباً ساری رات چلتے رہے۔یہاں تک کہ صبح کی اذان سے تھوڑ ا وقت پہلے قادیان پہنچ گئے اور جسم دھو کر اور کپڑے بدل کر صبح کی نماز میں مسجد مبارک میں شریک ہو گئے۔نماز کے بعد حضرت اقدس علیہ السلام نے کسی کام کے لئے آپ کو یا دفرمایا اور آپ نے اپنے آقا کے حضور حاضری دیدی۔اللہ ! اللہ ! اطاعت اور فرمانبرداری کا کیا ہی شاندار نمونہ تھا جو حضرت سیدنا نور الدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پیش فرمایا۔فجزاه الله احسن الجزاء جاؤ! جا کر بیعت کرلو جناب حکیم محمد حسین صاحب مرہم عیسی جو حضرت میاں چراغ الدین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ رئیس لاہور کے صاحبزادہ تھے۔ابھی چند سال ہوئے ان کی وفات ہوئی ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو بہشتی مقبرہ میں دفن ہونے کی سعادت بھی نصیب فرمائی۔اللهم نور مرقده۔جناب حکیم صاحب وفات سے کچھ عرصہ پیشتر ربوہ میں میرے مکان پر ملاقات کے لئے