حیات قدسی — Page 608
۶۰۸ وَ مِنْ ذُرِّيَّتِي قَالَ لَا يَنَالُ عَهْدِى الظَّلِمِينَ اس دعا کی رو سے جب تک حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ذریت اور نسل دنیا میں رہے گی امامت اور نبوت کا انعام آپ کی صالح اولاد میں جاری رہے گا اور چونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ذریت کا سلسلہ قیامت تک قائم رہنے والا ہے۔لہذا سلسلہ برکات امامت و نبوت بھی قیامت تک جاری رہنے والا ہے ہاں اس انعام کی محرومی کے لئے صرف ظالمین کو مستقنے کیا ہے۔لیکن اس استثناء سے یہ لازم نہیں آتا کہ ایک غیر ظالم ذریت بھی اس انعام سے ابد تک محروم رکھی جائے۔ان دونوں آیات سے ظاہر ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کے اثر اور نتیجہ میں آپ کی نسل دوسلسلوں میں چلی اور دونوں کو انعامات امامت اور برکات نبوت سے مستفیض فرمایا گیا۔ایک سلسلہ حضرت اسحق علیہ السلام سے شروع ہو کر حضرت مسیح پر ختم ہوا اور دوسرا حضرت اسمعیل علیہ السلام سے شروع ہو کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا درود شریف کے الفاظ میں ابراہیم اور آل ابراہیم کے صلوات اور برکات کے لئے دعائیہ الفاظ پیش کرنا اپنے لئے اور اپنی امت کے لئے انہی برکات کے سلسلہ کی غرض سے ہے۔درود شریف کے پاک اثرات امت کی یہ دعا جو درود شریف کے الفاظ میں پیش کی گئی ہے اور جو خدا تعالیٰ کے امر اور ارشاد کے ماتحت مانگی جاتی ہے ایک قبول شدہ دعا ہے۔اس کی قبولیت کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بشارت بھی دی گئی۔اسی بشارت کے ماتحت آپ نے فرمایا عُلَمَاءُ أُمتى كَانِبِيَاءِ بنی اسرائیل اور فرمایا يُوشِكُ أَنْ يَنزِلَ فِيُكُمُ ابْنُ مَرْيَمَ حَكْمًا عَدَلًا وَ إِمَامًا مَهْدِيًّا 8 یعنی میری امت کے علماء مجد دین جو اسرائیلی انبیاء کی طرح مخصوص القوم اور مخصوص الزمان حیثیت سے مبعوث ہوں گے، وہ اسرائیلی انبیاء کے نمونہ پر ہوں گے اور یہ برکت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے سلسلہ نسل کے لحاظ سے اس نمونہ پر عطا ہوگی جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اسحاقی سلسلہ کے ذریعہ عطا کی گئی اور مسیح موعود کی برکت جو امام مہدی ہو کر آنے والے ہیں اور جن کی بعثت دنیا کی سب قوموں اور قیامت تک کے لئے ہوگی ، وہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو