حیات قدسی — Page 571
۵۷۱ ظاہر کرنا اور یوسف موعود ہونے کا دعویٰ محض دنیا طلبی کے لئے تھا اور اس کی قدر و قیمت محض تمہیں روپے ماہوار اور کرایہ مکان ہے۔تف ہے ایسی زندگی پر۔اس سے بڑھ کر ایک لکھے پڑھے مدعی الہام انسان کی کیا ذلت ہو سکتی ہے اور کیا بڑا غضب اور عذاب ہو گا لیکن اگر یہ کم ہے تو خدائے منتقم ابھی زندہ ہے۔میں مولوی غلام رسول صاحب کو مبارک باد دیتا ہوں کہ ان کے ہاتھ پر ایک ابنِ صیاد ہلاک ہوا۔“ ضروری نوٹ میری مذکورہ بالا دونوں رویا کی تصدیق اللہ تعالیٰ نے بطفیل برکت حضرت سیدنا مسیح پاک علیہ السلام ظاہر فرما دی۔اول ظہیر نے میرے متعلق یہ پیشگوئی شائع کی تھی کہ میں ڈیڑھ سال کی میعاد کے اندر فوت ہو جاؤں گا۔اس کے بعد اس نے خاکسار اور سید نا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایده اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز واطلع شموس طالعہ کے متعلق شائع کیا کہ دونوں کی وفات ۱۹۲۰ء تک ہو جائے گی۔اللہ تعالیٰ کی نصرت سے اس کی یہ دونوں پیشگوئیاں بالکل غلط ثابت ہوئیں اور سید نا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز مع جمله فیوض و برکات کے خیر وعافیت سے ہیں اور حضور کا یہ حقیر غلام بھی اب تک جبکہ ۵۷ ، شروع ہو چکا ہے بفضلہ تعالیٰ بقید حیات ہے کہ فالحمد للہ۔بنارس کا نیپالی مندر سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ وارضاہ کے عہد سعادت میں ایک تبلیغی وفد جس میں حضرت مولوی محمد سرور شاہ صاحب ، حضرت میر قاسم علی صاحب ، حضرت حافظ روشن علی صاحب، حضرت مفتی محمد صادق صاحب ، خواجہ کمال الدین صاحب اور خاکسار شامل تھے ، بنارس گیا۔جب ہم جلسہ میں تقریریں کرنے سے فارغ ہو کر قیام گاہ پر آئے تو خواجہ صاحب نے کہا کہ یہاں پر ایک مشہور تاریخی مندر نیپالی مندر کے نام سے مشہور ہے اور لوگ دور دور سے اسے دیکھنے آتے ہیں اگر ہم بھی اسے دیکھ لیں تو معلومات میں اضافہ ہوگا اور تبلیغی اعتبار سے فائدہ اٹھایا جاسکے گا۔چنانچہ ہم سب احباب اس مندر کو دیکھنے کے لئے گئے۔یہ مندر ایک بہت بڑی بلڈنگ میں ہے۔جس کے اوپر جابجا مجسمے تراشے ہوئے ہیں۔اوپر کرشن جی مہاراج کی مورتیاں ہیں اور نیچے ظہیر کبھی کا فوت ہو چکا ہے۔عبداللطیف شاہد پبلشر کتاب ہذا