حیات قدسی

by Other Authors

Page 570 of 688

حیات قدسی — Page 570

إِنَّ الَّذِينَ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ سِيَنَا لَهُمْ غَضَبَ مِنْ رَّبِّهِمْ وَ ذِلَّةٌ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَكَذَلِكَ نَجْزِئُ الْمُفْتَرِینَ۔سو اس سے بڑھ کر اور کیا ذلت ہو سکتی ہے جو ظہیر کی اگست کے مہینہ میں ہوئی اور جس کی تفصیل ارستمبر کے پیغام میں ہے جو آج ۱۷ ستمبر کو موصول ہوا۔ظہیر کا ایک خط چھپا ہے جو اس نے مولوی محمد علی صاحب کے نام نہایت لجاجت سے لکھا ہے اس کے بعض فقرات یہ ہیں:۔آپ کو علم ہے کہ میرا کوئی چھوٹا یا بڑا بھائی نہیں اور نہ ہی کوئی چا چا بابا ہے ( یعنی وحید طرید ہوں۔ناقل ) جو گھر کے کاروبار کا خیال رکھ سکے۔اس لئے میں نے آپ سے عرض کیا ہے کہ اگر میں ہفتہ وار لاہور سے گھر آؤں تو پھر تمیں روپے ماہوار کافی ہوں گے اس لئے انجمن میرے لئے مکان کا بھی بندو بست کرے۔“ سنئے ظہیر پھر کیا کہتا ہے۔مجھے نہیں روپے اور مکان دے دو اور میں اس کے لئے اپنے عقا ئد چھوڑتا ہوں۔ظہیر پھر خط میں یوں لکھتا ہے۔آئندہ کے لئے میں نے اپنے دل میں عہد کر لیا ہے کہ ایسے خیالات کا میری طرف سے کبھی اظہار نہ ہوگا بلکہ میں آپ کو اطمینان دلاتا ہوں کہ اپنے دعوی کا بھی کسی سے ذکر نہ کروں گا۔میں نے آپ کی طرف لکھ دیا تھا کہ آئندہ کوئی اشتہار شائع نہ ہو گا اور یہ ہو سکتا ہے کہ انجمن (لاہور) کی ماتحتی میں رہ کر کوئی ایسی کارروائی کی جائے۔پس میں بجائے حضرت مسیح موعود پر کوئی الزام لگانے کے اپنے آپ پر الزام لگا تا ہوں اور اپنی بیوقوفی اور غلطی کا اقرار کرتا ہوں“ کیسے : با وجود اس قدر لجاجت اور اپنے عقائد سے مرتد ہونے کے مولوی محمد علی صاحب نے شملہ سے یہ جواب دیا کہ آپ اس مضمون کا ایک اشتہار بھیج دیں اور میں اسے لاہور پہنچ کر چھپوا دوں گا لیکن سر دست یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس کے بعد کیا ہو گا۔یہ فقرہ پڑھ کر ظہیر سمجھ گیا ہوگا که با وجود اتنی بڑی قربانی اور اپنے عقائد سے کھلا کھلا ارتداد اختیار کرنے کے پھر بھی تھیں روپے کی نوکری مع مکان کا وعدہ نہیں ہوتا۔تو وہ فرنٹ ہو گیا لیکن جو کچھ اس کے دل میں تھا وہ ظاہر ہو گیا یعنی دنیا نے یہ دیکھ لیا کہ اس کی اشتہار بازی اور مسیح موعود کو صاحب شریعت