حیات قدسی

by Other Authors

Page 569 of 688

حیات قدسی — Page 569

۵۶۹ کو ایسا کچلا ہے کہ بس اس کو ہلاک ہی کر دیا ہے۔پھر میں نے ظہیر کو دیکھا کہ وہ مجھ سے کچھ باتیں کرنا چاہتا ہے۔میں نے کہا جب تک تیری بددعا پر جو تو نے اشتہار میں شائع کیا ہے پورا سال نہ گذر جائے میں بات نہیں کروں گا۔غلام رسول را جیکی۔۱۷ جولائی ۱۹۱۸ء جناب ایڈیٹر صاحب اخبار " فاروق نے مورخہ ۱۹ ستمبر ۱۹۱۸ کے پرچہ میں مندرجہ ذیل نوٹ شائع کیا۔جس کا عنوان یہ تھا:۔وو سال کے اندر اندر ظہیر کے اشتہار اور یوسف موعود کے دعوئی کا انجام اور اس کی ذلت اور دعوی سے انکار 66 ظہیر الدین اروپی اپنی ناکامی اور نامرادی کی وجہ سے جو لازم افترا اور پیروئی حدیث النفس ہے۔ہر چند اس قابل نہیں کہ اس کے لئے ایک کالم بھی دیا جائے۔لیکن ایک نشانِ صداقت ظاہر ہونے کی وجہ سے معافی چاہتا ہوں کہ چند سطور دینے پر مجبور ہوا ہوں۔۳۱؍ دسمبر ۱۹۱۷ء کو ظہیر نے ایک دعا شائع کی جس کا خلاصہ اسی کے الفاظ میں یہ ہے:۔وہ کلام الہی اور الہام ربانی جو مجھ پر نازل ہوا ہے اور جس کی بناء پر میں اپنے تئیں یوسف موعود قرار دیتا ہوں۔۔۔فی الواقع خدا تعالیٰ ہی کا کلام اور وحی ہے۔اور خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ نہ تو از قسیم اضغاث واحلام ہے نہ از قسم احادیث النفس نہ ہی کذب اور افترا اور نہ از قسم آراء بلکہ خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کا کام ہے کہ وہ خاص خدا تعالیٰ کی وحی اور الہام اور اسی کا مقدس کلام ہے میں دعا کرتا ہوں کہ اگر میں نے تحریر بالا میں کسی قسم کے جھوٹ اور فریب سے کام لیا ہے تو اے میرے خدا جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے تو مجھے اپنے سخت سے سخت عبرتناک عذاب میں ایک سال تک ہلاک اور بالکل بر باد کر دے اور مجھ پر ایسا عذاب نازل کر دے کہ تمام دنیا کے لئے عبرت ہو۔“ یہاں خدا کا اقتداری نشان دیکھئے کہ اسی سال میں ظہیر کی وہ ذلت ہوئی کہ خدا دشمن سے دشمن کو بھی نصیب نہ کرے اور اس آیت قرآنی نے اپنا جلوہ دکھایا جو یوں ہے