حیات قدسی — Page 546
۵۴۶ قاعدہ کے حروف سمجھنے تک تو یہ عاجز انسان استاد کی رہنمائی کا محتاج ہے تو پھر روحانی اور عرفانی اور ربانی علوم کے لئے روحانی استادوں اور معلموں کی تربیتی ضرورت کا کیونکر محتاج نہ ہوگا۔نمبرے۔عقل بھی آنکھ کی طرح بے شک مفید چیز ہے لیکن جس طرح آنکھ اندھیرے میں کچھ نہیں دیکھ سکتی اور خارجی روشنی کے بغیر خواہ کس قدر ہی بینا کیوں نہ ہو۔ہرگز دیکھ نہیں سکتی بلکہ اندھے کی آنکھ کے مشابہ ہے۔اسی طرح عقل کا حال ہے کہ اس کے لئے مذہبی اور روحانی علم کے بغیر جو الہام الہی کے ذریعہ خدا کی طرف سے مختلف مدارج کی روشنی رکھتا ہے صحیح ادراک کرنا اور یقینی معلومات تک خود بخود پہنچنا نا ممکنات سے ہے۔نمبر ۸۔عقل کی مثال آنکھ کی ہو تو الہامی نور اور مذہبی روشنی دور بین کے شیشے کے مشابہ ہے اور ظاہر ہے کہ جو کچھ انسان دور بین اور دوربین کے شیشہ کے ذریعے باریک سے باریک اور دور سے دور چیز دیکھ سکتا ہے وہ محض آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔یہی بات اپنی مثال میں انوار نبوت و رسالت سے تعلق رکھتی ہے کہ جو کچھ خدا کا نبی اور رسول وحی نبوت و رسالت کے نور کے ذریعہ دیکھتا ہے وہ دنیا کے دانشمند اور عقلاء محض عقل و دانش سے ہر گز نہیں دیکھ سکتے اور نہ عقل کے ذریعہ انکشاف حقائق میں علم کا وہ یقینی مرتبہ ہی حاصل ہو سکتا ہے جو انوار نبوت کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے۔نمبر ۹۔خدا کے نبی اور رسول جو خدا کی طرف سے آئے اور اب تک آتے رہے خواہ وہ مختلف زمانوں کو میں آئے اور مختلف ملکوں اور زبانوں میں یا مختلف قوموں میں آئے مگر سب کے سب حسب منطوق وَلَقَدُ بَعَثْنَا فِي كُلّ أُمَّةٍ رَّسُوْلًا أَنِ اعْبُدُوا اللهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ 52 اور ضرور ہم نے ہر قوم میں رسول یہ تعلیم دے کر بھیجے کہ اللہ کی عبادت کرو اور باطل معبودوں سے بچو، توحید الہی کی تعلیم لے کر آئے اور سب نے اپنی اپنی قوم کے آگے لا الہ الا اللہ کی تعلیم کو پیش کیا۔لیکن جہاں عقل نے اپنے ڈھکوسلوں سے کام لینا شروع کیا۔توحید کے عقیدہ کو بگاڑنے کے ساتھ کسی قوم نے اہر متن اور یز دان دو خداؤں کی پرستش کسی کو اجرام سماویہ وارضیہ کی پرستش کرائی اور مشرک قوموں میں سے متفقہ طور پر کوئی بھی ایک عقیدہ پر قائم نہیں پائی جاتی اور یہ افتراق اقوام عالم محض عقلی راہنمائی کے نتیجہ میں ظاہر ہورہا ہے ورنہ انبیاء کی تعلیم صرف تو حید پر دنیا کو قائم کرنے والی ہوتی ہے۔نمبر ۱۰۔مادی عقل والوں کی عقلی تحقیق کا یہ حال ہے کہ حکمائے یونان اپنی تحقیق سے زمین کو