حیات قدسی

by Other Authors

Page 500 of 688

حیات قدسی — Page 500

چنانچہ علامہ زمخشری کی تفسیر کا حوالہ دیا۔اور ان کی بیان کردہ تاویل کا ذکر فرمایا۔حضور علیہ السلام نے مولوی محمد احسن صاحب کو مخاطب کر کے فرمایا کہ اس کے متعلق ایک رسالہ بھی لکھنا چاہیئے۔چنانچہ جناب مولوی صاحب نے حضور اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ارشاد کی تعمیل میں اس موضوع پر ایک رسالہ تصنیف کر کے شائع کیا۔حضرت اقدس علیہ السلام کی اس مجلس میں خاکسار کو بھی حاضری کی توفیق ملی۔اس لئے اس واقعہ کا ذکر کر دیا ہے۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَىٰ ذَالِكَ فیروز پور میں عیسائیوں سے بحث ایک دفعہ خاکسار تبلیغی سلسلہ میں فیروز پور شہر میں مقیم تھا کہ وہاں عیسائیوں نے ایک جلسہ منعقد کیا۔اس جلسہ میں ملک کے مشہور پادریوں کا اجتماع ہوا۔پادری عبد الحق صاحب جو دراصل موضع چوا تیاں ( متصل مدرسہ چٹھہ ) ضلع گوجرانوالہ کی مسجد کے ملاں محمد حیات صاحب کے لڑکے ہیں۔اور ایک نا پسندیدہ فعل کے نتیجہ میں وطن چھوڑ کر چلے گئے اور عیسائی ہو کر ان کے مشہور مناد بنے۔انہوں نے اس موقع پر غیر احمدی علمائے اسلام کو چیلنج دیا کہ وہ ان سے قرآن کریم اور بائیبل کی الہامی تعلیم کے متعلق بحث کر لیں۔باوجود بار بار کے چیلنج کے غیر احمدی علماء کو ان کے مقابلہ کی جرأت نہ ہوئی اور انہوں نے بحث سے اعراض کیا۔آخر مجمع کے سب مسلمانوں نے اسلام کی طرف سے مقابلہ کرنے کے لئے مجھ سے خواہش کی اور مجھے بحث کے لئے اپنا نمائندہ مقرر کیا لیکن پادری صاحب نے مجھ سے تبادلہ خیالات کرنے سے انکار کر دیا۔آخر بہت حیص بیص کے بعد اور لوگوں کے مجبور کرنے پر پادری صاحب بحث کے لئے تیار ہو گئے۔میں نے ان کی تقریر پر جو قرآن کریم کے بالمقابل انجیل کی الہامی کتاب اور الہامی تعلیم کے متعلق تھی۔علاوہ اور باتوں کے یہ اعتراض کئے کہ اگر انجیل کی تعلیم الہامی ہے تو یہ الہامی تعلیم کس کی طرف سے نازل ہوئی ہے آیا تثلیث کے مجموعہ کی طرف سے یا اقنوم ثلثہ میں سے کسی ایک فرد کی طرف سے۔اور یہ امتیاز کس طرح کیا جائے کہ یہ الہامی تعلیم باپ نے اتاری ہے یا بیٹے نے یا روح القدس نے یا تینوں نے یا دونے یا ایک نے۔پھر یہ امر کس کے طرح شناخت کیا جائے کہ یہ تعلیم فلاں کی طرف سے نازل ہوئی تھی اور فلاں کی طرف سے نازل نہ ہوئی تھی۔