حیات قدسی — Page 481
۴۸۱ چیزوں پر ہے۔اور ان کی بار بار حاجت اور ضرورت پیدا ہوتی ہے۔اور وہ ہستی جو ان ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے ابتدائی طور پر مسبب الاسباب ہے، ہر دم شکریہ کی مستحق ہے۔اور اگر تمام اسباب زیست پر غور کیا جائے خواہ وہ اسباب عناصر میں سے ہوں یا موالید میں سے۔یا اجرام سماویہ میں سے تو معلوم ہوتا ہے کہ مخلوقات کا یہ تمام سلسلہ اسی منبع سے نکلا ہے جو ذات باری تعالیٰ ہے۔اور کائنات کی اصل علت اور سبب ہے۔انسان جوں جوں معرفت کی نگاہ سے ان چیزوں پر غور کرتا ہے۔اس پر یہ راز منکشف ہوتا جاتا ہے کہ عمل و معلولات کا تمام سلسلہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہی منتہی ہوتا ہے اور عالمین کا ذرہ ذرہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت ، رحمانیت، رحیمیت اور مالکیت کی شان کا آئینہ ہے۔محجوب نگاہیں اللہ تعالیٰ کے فیوض کے بے پایاں سمندر کو اس طرح بھی دیکھ سکتی ہیں کہ مثلاً ایک مخیر اور امیر آدمی لوگوں کو ایک عام ضیافت پر مدعو کرے اور اپنے سینکڑوں خدام کے ذریعہ دسترخوان پر انواع واقسام کے کھانے پینے جانے کا انتظام کرے۔اس وقت بے شک دستر خوان پر کھانا خدام کھلا ئیں گے۔اور مختلف نعماء سے مدعوین کو سیر کریں گے۔اور بظاہر انہی کا احسان مہمانوں پر ہوگا۔اور وہ قابل شکر یہ بھی ہوں گے۔لیکن اگر اصل میزبان جو مہمانوں کو بلانے والا ہے دعوت کا انتظام نہ کرتا۔اور ان سینکڑوں خدام کو کھانا کھلانے پر مقرر نہ کرتا تو کوئی مہمان بھی کھانا نہ کھا سکتا۔اس صورت میں اگر ضیافت کھانے والے صرف خدام کا شکریہ ادا کر کے ہی چلے جائیں اور اصل محسن اور میزبان کا شکر یہ نہ ادا کریں تو یہ طریق یقیناً احسان شناسی کے منافی ہوگا۔پس کامل درجہ معرفت کا یہ ہے کہ مخدوم اور خدام محسن اور احسانات ، منعم اور نعماء میں فرق کو شناخت کیا جائے۔اور ان فیوض کو بھی جو اللہ تعالیٰ کی صفت رحیمیت کے ماتحت حاصل ہوتے ہیں۔اور جن کے حصول میں بہت سے درمیانی اسباب و وسائط اور کوشش اور جدوجہد کا دخل ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یقین کیا جائے۔اور اپنی نگاہ کو اسباب قریبہ سے آگے لے جا کر خالق الاسباب کی طرف اٹھایا جائے۔سورہ رحمان میں قرآنی علوم میں سے اس حصہ کی طرف جو روحانی فیوض سے تعلق رکھتا ہے خاص طور پر توجہ دلائی گئی ہے۔اور یہ عجیب بات ہے کہ اس میں آیت الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسبان 12 میں شمسی اور قمری مہینوں کو بطور گنتی اور حساب کے ذریعہ کے پیش کیا گیا ہے۔جس کی