حیات قدسی — Page 474
۴۷۴ جب ایک دفعہ خاکسار حضور کے درس قرآن کریم کو سن کر مسجد اقصے سے باہر نکلا تو مکرم قاضی محمد ظہور الدین صاحب اکمل مجھے ملے اور فرمانے لگے کہ میں نے قریب کے ایام میں آپ کے منہ متعلق ایک منذ رخواب دیکھا ہے۔اور وہ یہ کہ آپ کا دایاں بازو ٹوٹ گیا ہے۔میں نے عرض کیا کہ خواب کی اصل حقیقت خدا کو ہی معلوم ہے لیکن جہاں تک اس خواب اور موجودہ حالات کا تعلق ہے۔یہ خواب میری ذات سے متعلق معلوم نہیں ہوتی بلکہ سلسلہ کے حالات سے تعلق رکھتی ہے۔میں نے عرض کیا کہ میرا نام ” غلام رسول“ ہے۔اور میرے گاؤں کی نسبت سے راجیکی“ کا لفظ بھی میرے نام کا جزو بن گیا ہے۔جو اپنے اندر راج اور حکومت کا مفہوم رکھتا ہے۔اور ایسے ”غلام رسول، جن کا تعلق حکومت اور نظام سے ہے وہ سید نا حضرت محمود ایدہ اللہ الودود ہیں۔کیونکہ غلام کے معنے بیٹا کے بھی ہوتے ہیں۔جس طرح قرآن کریم میں حضرت سکی اور حضرت عیسیٰ کے متعلق غلام کا لفظ بیٹا کے معنوں میں ہی استعمال کیا گیا ہے۔پس حضرت ابنِ رسول سید نامحمود ہی ” غلام رسول ہیں۔اور آپ کو سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح اول کی طرف سے جو صدرانجمن احمدیہ کی انتظامی مجلس کا پریزیڈنٹ مقرر کیا گیا ہے۔اور خلافت کی نیابت میں سلسلہ کے نظام کی نگرانی سونپی گئی ہے اس کی طرف راجیکے“ کے الفاظ اشارہ کرتے ہیں۔اور دائیں بازو کے ٹوٹنے سے یہ مراد ہے کہ صدر انجمن ریہ کے بعض ممبر جو خلافت کی نیابت میں پریزیڈنٹ انجمن کے لئے بطور دست تعاون کے ہیں ٹوٹ کر علیحدہ ہو جائیں گے۔احمد یہ سید نا حضرت خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات کے بعد جب صدر انجمن احمد یہ قادیان کے بعض ممبر خواجہ کمال الدین صاحب اور مولوی محمد علی صاحب کی قیادت میں حضرت ابنِ رسول سید نا محمود ایدہ اللہ تعالیٰ کی خلافت کے منکر ہوئے اور سلسلہ کے مقدس مرکز کو ہمیشہ کے لئے کو چھوڑ کر صد را انجمن احمد یہ قادیان سے بھی کٹ گئے تو اس تعبیر کا درست ہونا ثابت ہوا۔ہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے مطابق خلافت حقہ ثانیہ کی متواتر اور پیہم نصرت و تائید فرمائی۔اور اعلاء کلمتہ اللہ کے لئے سلسلہ کو نئے اور مخلص ممبر اور کارکن عطا فرمائے اور وہ اب تک اپنے برحق خلیفہ اور اس کے فدائیوں پر اپنی بے شمار رحمتیں اور فضل نازل فرما رہا ہے۔فالحمد لله رب العالمین