حیات قدسی — Page 472
۴۷۲ اس سے پہلے خواجہ صاحب نے حضرت اقدس علیہ السلام کے حضور اپنا یہ خواب بھی بیان کیا تھا کہ ان کے منہ سے بہت سے چوہے نکلے ہیں۔چوہے کو عربی زبان میں فار اور فَوَيْسَقَةٌ کہتے ہیں۔اور فار کے معنے بھاگنے والا اور فويسقہ کے معنے چھوٹا فاسق بھی ہوتا ہے۔پہلی خواب کی تعبیر یہ تھی کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے وصال کے بعد حضرت مولانا نورالدین صاحب بطور خلیفہ کے جماعت کے حاکم ہوں گے۔جن کی دلی خلوص سے اطاعت جماعت کے ہر فرد پر واجب ہو گی۔لیکن خواجہ صاحب اور ان کے رفقاء انشراح صدر سے آپ کی اطاعت کرنے والے نہ ہوں گے۔بلکہ خلیفہ وقت کے نظام کے ماتحت جماعت میں ان کی شمولیت کا اور اطاعت اسیران سلطانی کی طرح ہو گی۔اور وہ کر ہا نظام کی پابندی اور اطاعت کرتے رہیں گے۔چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات کے بعد یہ اسیران سلطانی اطاعت و نظام کی پابندی سے آزاد ہو کر خلافت ثانیہ کے کھلے کھلے باغی ہو گئے۔اور تخت گاہ رسول کو چھوڑ کر لاہور میں اپنا مرکز اور مولوی محمد علی صاحب کو اپنا امیر بنا لیا۔اور پھر ان عقائد حقہ کو بھی جن پر سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں وہ قائم تھے، ترک کر دیا۔یہاں تک کہ مولوی محمد علی صاحب ریویو آف ریلیچز کے ایڈیٹر کی حیثیت میں حضرت اقدس علیہ السلام کے متعلق نبی آخر زمان ”نبی فارس الاصل، وغیرہ کے الفاظ تحریر میں لاتے رہے۔لیکن بعد میں حضرت کے الہام سَيَقُولُ الْعَدُوُّ لَسْتَ مُرْسَلان کے ماتحت آپ کی نبوت سے انکار کر کے آپ کے دشمنوں کی صف میں جابیٹھے۔إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اصْحَابُ اليمين والشمال حضرت خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ وارضاہ کی خلافت کے آخری ایام میں خاکسار نے رویا میں دیکھا کہ سیدنا ومولانا حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم احمد یہ بلڈنگ کی مسجد کی مشرقی جانب تشریف فرما ہیں۔اور خواجہ کمال الدین صاحب مع چند رفقاء کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں جانب بیٹھے ہوئے ہیں۔پھر وہ دائیں جانب سے اٹھ کر آپ کی بائیں طرف جا بیٹھے۔مجھے اس پر بہت تعجب ہوا۔گو اس وقت اس کی تعبیر سمجھ میں نہ آئی لیکن بعد کے واقعات نے بتا دیا کہ یہ