حیات قدسی — Page 430
۴۳۰ کر دیا ہے۔اب جو فیصلہ عدالت کے نزدیک مناسب معلوم ہو ، وہ کر سکتی ہے۔حضرت داؤد علیہ السلام کے دل پر اس درویش کے بیان سے بلحاظ اس کی پارسائی اور عابدانہ حالت کے خاص اثر ہوا۔آپ نے فرمایا کہ اچھا اس وقت جاؤ اور فلاں تاریخ کو دونوں مدعی اور مدعا علیہ حاضر ہو جاؤ۔تا فیصلہ سنا دیا جائے۔جب وہ مدعی اور ملزم دونوں عدالت سے رخصت کئے گئے تو حضرت داؤد علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حضور بہت دعا کی کہ اے میرے خداوند میری عدالت سے کسی کیس کے متعلق نا روا فیصلہ ہونا جو تیرے نزدیک اپنے اندر ظلم کا شائبہ رکھتا ہو۔میں قطعاً پسند نہیں کرتا تو اس مقدمہ میں میری رہنمائی فرما اور اصل حقیقت جو بھی ہے۔مجھ پر منکشف فرما دے۔جب حضرت داؤد السلام نے نہایت تضرع سے دعا کی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بتایا گیا کہ جو کچھ درویش نے بیان کیا ہے وہ بالکل درست ہے اور ذکر کی حالت میں اس درویش کے دل میں یہ خواہش ہم نے ہی ڈالی تھی۔اور گائے کا بچھڑا بھی ہمارے ہی تصرف کے ماتحت درویش کے حجرہ میں لایا گیا تھا۔اور پھر اس کا ذبح کیا جانا بھی ہمارے ہی منشاء کے ماتحت ہوا۔اور یہ سب کا رروائی ہمارے ہی خاص ارادہ کے ماتحت وقوع میں آئی۔اور اصل حقیقت یہ ہے کہ اس درویش کا والد جو بہت بڑا تا جر تھا اور مدت تک باہر تجارت کرنے کے بعد اس نے لاکھوں روپیہ کی مالیت حاصل کی۔اور کئی ریوڑ بھیڑوں اور بکریوں کے اور کئی گلے گالیوں اور اونٹوں کے اس کی ملکیت میں تھے۔وہ واپس وطن کو آ رہا تھا اور یہ مدعی نمک حرام اس درویش کے باپ کا نوکر تھا۔جب وہ تاجر اپنے شہر کے قریب ایک میدان میں اُترا اور رات کو سویا تو اس نمک حرام نوکر نے اپنی چھری سے جس کے اوپر اس کا نام بھی کندہ ہے، اس تاجر کو قتل کر دیا۔اور اس میدان کے ایک گوشہ میں معمولی سا گڑھا کھود کر اس میں گھسیٹ کر ڈال دیا۔اور اس پر مٹی ڈال کر اسے دفن کر دیا۔چنانچہ حضرت داؤد علیہ السلام کو خدا تعالیٰ نے برویت کشف وہ میدان اور گڑھا سب کچھ دکھا دیا۔اور وہ چھری جس سے تاجر قتل کیا گیا اور جمعہ خون آلود کپڑوں کے دفن کیا گیا بھی دکھا دی۔اور بتایا کہ ہم نے یہ سب کا روائی اسی لئے کراوئی کہ اس قاتل کے پاس جس قدر مال و مویشی اور روپیہ ہے یہ سب درویش کو جو مقتول تاجر کا بیٹا ہے اور اصل وارث ہے دلایا جائے اور مدعی کو جو درویش کے تاجر باپ کا قاتل ہے قصاص کے طور پر قتل کی سزا دلائی جائے۔جب حاضری کے لئے تاریخ مقررہ کا دن آیا اور دونوں مدعی اور ملزم عدالت میں حاضر ہوئے تو حضرت داؤد علیہ السلام نے اس مدعی کو کہا کہ تم اس درویش کو معاف کر دو تو تمہارے لئے اچھا