حیات قدسی — Page 429
۴۲۹ خدائی انصاف ایک دن حضرت میر ناصر نواب صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کی بیان فرمودہ مندرجہ ذیل حکایت سنائی۔حضرت داؤد علیہ السلام کے زمانہ کی بات ہے کہ ایک درویش حجرہ نشین جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا رہتا تھا اور خلوت نشینی اس کا محبوب شغل تھا۔ایک دن جب وہ ذکر الہی میں مشغول تھا۔اس کے دل میں یہ شدید خواہش پیدا ہوئی کہ اگر لحم البقر ملے تو میں کھاؤں۔چنانچہ یہ خواہش جب شدت کے ساتھ اسے محسوس ہوئی تو ایک قریب البلوغ گائے کا بچہ اس کے حجرہ کے اندر خود بخود آ گھسا۔اور اس کے گھسنے کے ساتھ ہی اس کے دل میں یہ خیال آیا کہ یہ گائے کا بچہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور میری خواہش پر یہاں حجرہ میں آ گھسا ہے۔اس نے اس کو ذبح کیا تا کہ اس کا گوشت کھا کر اپنی خواہش کو پورا کر لے۔جب ابھی ذبح کیا ہی تھا کہ اوپر سے ایک شخص آ گیا اور یہ دیکھ کر کہ اس کو درویش نے بچھڑ ا ذ بح کیا ہے غضبناک ہو کر بولا کہ یہ میرا جانور ہے تو نے اسے ذبح کیوں کیا ؟ تو اس جانور کو یہاں چوری کر کے لے آیا اور پھر ذبح کر لیا۔یہ مجرمانہ فعل ہے۔میں اس پر عدالت میں استغاثہ دائر کروں گا۔چنانچہ اس شخص نے بحیثیت مدعی حضرت داؤدعلیہ السلام کی عدالت میں دعویٰ دائر کر دیا۔عدالت نے ملزم کو طلب کیا۔اور حضرت داؤد علیہ السلام نے اس درویش سے پوچھا کہ خص جو بحیثیت مدعی تجھ پر الزام لگاتا ہے کہ تو نے ایسا ایسا فعل کیا ہے اس الزام کا تمہارے پاس کیا جواب ہے۔اس کے متعلق اس درویش نے بیان کیا کہ میرا والد جبکہ میں چھوٹا ہی تھا تجارت کے لئے کسی ملک میں گیا اس کے بعد میں جوان ہوا۔اسے عرصہ دراز گذر چکا ہے۔میں نے کچھ تعلیم حاصل کر کے بعض اہل اللہ سے تعلق پیدا کیا اور گوشہ نشینی کو اختیار کر لیا۔اسی اثناء میں جب کہ میں ذکر الہی میں مصروف تھا میرے دل میں شدید خواہش لحم البقر کھانے کے متعلق پیدا ہوئی۔اس خواہش کی حالت میں ایک گائے کا بچھڑا میرے حجرہ میں آ گھسا۔میں نے یہی سمجھا کہ اللہ تعالیٰ نے میری خواہش کو پورا کرنے کے لئے یہ گائے کا بچھڑا میرے حجرہ میں بھیج دیا ہے۔اس لئے میں نے اسے ذبح کر لیا۔یہ شخص اوپر سے آ گیا اور غضبناک ہو کر بولا کہ تو میرا جانور چرا کر لایا ہے اور پھر ذبح کر لیا ہے میں عدالت میں مقدمہ دائر کرتا ہوں۔چنانچہ اس بناء پر اُس نے مجھے ملزم قرار دے کر دعوی دائر