حیات قدسی — Page 392
۳۹۲ ہوئے تھے اور لوگ باتیں کر رہے تھے کہ مولوی صاحب اور ان کے اہل وعیال کی تباہی دراصل اس بے ادبی کی وجہ سے ہوئی ہے کہ انہوں نے مرزا صاحب کی مخالفت میں قرآنی آیات کو آگے پیچھے کر کے چھاپنا چاہا۔مولوی نظام الدین صاحب نے بتایا کہ جب میں نے یہ بات سنی تو میرے دل میں بہت خوف اور ہیبت پیدا ہوئی۔اور اس ہولناک اور دہشت انگیز واقعہ سے خدا تعالیٰ نے میری سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف رہنمائی کی اور آپ کو قبول کرنے کی توفیق دی۔اس واقعہ سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ خدا تعالیٰ قرآن کریم کی حفاظت کا وعدہ کس کس رنگ میں پورا فرما رہا ہے۔اور اس کی حفاظت کے لئے کتنی غیرت رکھتا ہے۔اسی طرح معنوی تحریف کے نمونے بھی بڑے بڑے علماء سے ظاہر ہوئے۔چنانچہ تَوَفَّيْتَنِی کے معنی رَفَعْتَنِی کئے گئے۔اور رفع کو جسمانی رفع کے معنوں میں لیا گیا اور یہ مخصوص معانی بھی صرف حیات مسیح کے ثابت کرنے کے لئے کئے گئے۔ورنہ قرآن کریم میں کئی جگہ لفظ توفیٰ اور اس کے مشتقات مختلف صیغوں میں استعمال ہوئے ہیں۔لیکن وہاں پر اور معنے کئے جاتے ہیں۔خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔اور وَرَفَعْنَالَكَ کے الفاظ بھی وارد ہوئے ہیں۔لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق تَوَفِّی کے لفظ سے سوائے وفات کے اور کچھ مراد نہیں لیا گیا۔اور نہ رفع سے مراد رفع الى السماء لیا جاتا ہے۔صرف حیات مسیح کے عقیدہ کو ثابت کرنے کے لئے ہی ایسی دور از حقیقت تاویلیں کی جاتی ہیں۔بعض مشترک خطوط حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام - حضرت خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے متبرک خطوط میں سے کئی ایک غیر معمولی حوادث کی نذر ہو گئے۔جو میرے پاس محفوظ ہیں ان میں سے چند ایک ذیل میں درج کرتا ہوں۔(1) خط حضرت خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو حضرت نے مجھے احمد یہ بلڈنکس لاہور کے پتہ پر ارسال فرمایا۔