حیات قدسی — Page 391
۳۹۱ تحریف اور خدا کی گرفت اسی طرح کا ایک واقعہ ضلع سیالکوٹ تحصیل پسرور کے ایک گاؤں کا ہے۔وہاں پر حکیم مولوی نظام الدین صاحب ایک احمدی رہتے تھے۔انہوں نے عند الملاقات مجھے سنایا کہ میرے رشتہ داروں کو میں سے اسی علاقہ کے ایک گاؤں میں ایک مولوی صاحب رہتے تھے جو واعظ بھی تھے۔اور حیات مسیح کے عقیدہ کے اس قدر حامی تھے کہ شب و روز ان کی بحث اور وعظ اسی موضوع پر ہوتا تھا۔جب ان کی خدمت میں آیت يَا عِیسَی إِنِّي مُتَوَفِّيْكَ وَ رَافِعُكَ الحے پیش کر کے استدلال کیا جاتا۔تو وہ نہایت جوش سے تقدیم و تاخیر کے ساتھ فقره مُتَوَفِّيكَ کو وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيِّمَةِ کے بعد ر کھتے۔کچھ عرصہ تو وہ اپنے جذ بہ وجوش میں مُتَوَفِیک کو زبانی موخر کرتے رہے۔پھر انہوں نے اسی جذبہ کی شدت سے علماء سے یہ مشورہ کرنا شروع کر دیا کہ کیوں نہ قرآن کریم کے تازہ ایڈیشن میں اس فقرہ کو مو خرطبع کیا جائے۔علماء نے کہا کہ بے شک یہ لفظ ہے تو مؤخر لیکن اگر اس کو طباعت میں پیچھے کیا گیا تو لوگوں میں شور پڑ جائے گا اور بڑا سخت اعتراض ہو گا۔اس پر مولوی صاحب نے کہا کہ کچھ بھی ہو۔میں یہ کام خود کروں گا۔چنا نچہ انہوں نے وعظ کر کے بہت سا روپیہ جمع کیا اور امرتسر پہنچے لیکن وہاں تمام مطبع والوں نے اس کا طرح تحریف کرنے سے قرآن کریم کو طبع کرنے سے انکار کر دیا۔اس پر وہ ایک سکھ مطبع والے کے پاس گئے اور بہت سا روپیہ اس غرض کے لئے پیش کیا لیکن اس نے بھی مسلمانوں کے ڈر سے جرات نہ کی اور انکار کر دیا۔مگر مولوی صاحب مذکور کے سر میں کچھ ایسا جنون سمایا ہوا تھا کہ انہوں نے اس غرض کے لئے مطبع کے پتھر وہاں سے خرید لئے۔اور یہ ارادہ کیا کہ وہ اپنے گاؤں میں طباعت کا انتظام کر کے تحریف کے ساتھ قرآن کریم طبع کرائیں گے۔لیکن ان کے گھر پہنچنے پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عجیب پُر ہیبت نشان ظاہر ہوا۔مولوی صاحب اور ان کے اہل و عیال یکا یک طاعون کی لپیٹ میں آگئے۔اور ایک ہی رات میں گھر کے سب نفوس موت کی نذر ہو گئے۔صبح جب لوگوں کو معلوم ہوا تو شور قیامت بپا ہو گیا۔مولوی نظام الدین صاحب نے بتایا کہ ہم بھی تعزیت کے لئے ان کے گھر گئے۔وہاں بہت سے لوگ جمع تھے گھر میں طباع کے لئے پتھر پڑے