حیات قدسی — Page 386
۳۸۶ میری رویا مجھے اس نکاح سے پہلے جب میں لاہور میں مقیم تھا، ایک رؤیا ہوئی۔جس میں میں نے دیکھا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ مجھے فرط مسرت سے حضرت سیدہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ کے نکاح کی مبارکباد دیتے ہیں۔میں صبح اٹھ کر رویا کے متعلق غور کر رہا تھا کہ محترم بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی آگئے اور مجھے مبارک باد دے کر کہا کہ حضرت خلیفة المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مجھے قادیان سے آپ کو ساتھ لانے کو کے لئے بھیجا ہے اور فرمایا ہے کہ عزیزہ امتہ الحفیظ کے نکاح کی تقریب ہے۔اعلان نکاح مولوی کے غلام رسول صاحب را جیکی کریں گے۔اس لئے ان کو لاہور سے اپنے ساتھ لے آئیں۔یہ سن کر مجھے اپنی رؤیا کی تعبیر معلوم ہوئی۔چنانچہ میں تیار ہو کر مکرم بھائی جی کے ساتھ قادیان پہنچا اور مسجد اقصے میں مورخہ ۷/ جون ۱۹۱۵ء کو بعد نماز عصر سید نا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ، حضرت نواب محمد علی خان صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور دوسرے بزرگان سلسلہ کی موجودگی میں خطبہ نکاح پڑھا۔یہ خطبہ الفضل مورخہ ۱۷ جون ۱۹۱۵ء میں شائع ہو چکا ہے۔؎ وَإِنَّ الـــــــه ذو فـــضــــل عـــظيــم فَيُعْطِي من يشاء وما يشاء فلاتعجب لمثلى حظ فضل اذا ما فوقه يُرجَى العَطَاء جلسہ سالانہ کے موقع پر امامت غالبًا ۱۹۱۹ء کی بات ہے کہ میں جلسہ سالانہ کی تقریب پر قادیان پہنچا۔رات کو میں نے رویا دیکھی کہ میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے گھر میں رہتا ہوں۔اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قیام گاہ بھی دارا مسیح ہی ہے۔اس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مجھے ایک ڈبیہ جو خالص مشک سے بھری ہوئی تھی عطا فرمائی۔میں نے اس میں سے کچھ مشک کھالی۔اور پھر اس ڈبیہ کو جیب میں ڈال لیا۔یہ مشک بہت ہی عمدہ اور خوش ذائقہ تھی۔اس کے بعد میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے سامنے آیت انّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا 70