حیات قدسی

by Other Authors

Page 385 of 688

حیات قدسی — Page 385

۳۸۵ ہڑتال ورقیہ کا نہایت مفید کشته مندرجہ ذیل کشتہ مجھے خاص طور پر سید نا حضرت خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سکھایا تھا۔جو لقوہ۔فالج۔کزاز۔مرگی۔کھانسی۔دمہ۔نزلہ۔زکام۔وجع المفاصل۔درد کمر۔ضعف باہ۔بخار مزمن وغیرہ کئی بیماریوں میں کام آتا ہے۔میں نے خود بھی اس کو آزمایا ہے اور بہت مفید پایا ہے۔تدبیر عمل : ابرک کے دوصاف ورق جو شکن دار نہ ہوں۔اور کف دست کے برابر چوڑے ہوں لے کر ان کے اندر پسی ہوئی ہڑتال بچھائی جائے۔اس طریق پر کہ نصف انچ تک کناروں کے اندر رہے۔پھر ابرک کے ورقوں کو لوہے کی باریک تاروں سے خوب پیوست کر دیا جائے۔اور کیکر کے کو ملے ( یا کسی اور لکڑی کے کوئلے ) سلگا کر اور ان کی سطح برابر کر کے وہ ورق چھٹے سے احتیاط کے ساتھ ان پر رکھ دیئے جائیں۔ایک دومنٹ میں ہڑتال پچھلی ہوئی اندر نظر آئے گی۔پھر نیچے کی طرف اوپر کر کے اوپر کے ورق کو کوئلوں پر رکھا جائے۔اور دو تین منٹ کے بعد آگ سے نیچے اتار لیا جائے۔سرد ہونے پر ورق الگ کریں۔اندر سے سرخ رنگ کا کشتہ ہڑتال تیار ملے گا۔اس کو کسی چاقو سے یا جھاڑ کر علیحدہ کر لیا جائے۔اور پیس کر محفوظ کر لیا جائے۔عند الضرورت رتی سے دو رتی تک یا شدید فالج کی حالت میں تین رتی تک مکھن یا ملائی میں استعمال کیا جائے۔عجیب الفوائد ہے۔دخت کرام حضرت سیدہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ کا نکاح میں تحدیث نعمت کے طور پر اس سعادت عظیمہ کا ذکر کرنا مناسب سمجھتا ہوں جو مجھے سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی دختر نیک اختر دخت کرام سیده امته الحفیظ بیگم صاحبه سلمہا اللہ تعالیٰ کا خطبہ نکاح پڑھنے کی صورت میں حاصل ہوئی۔حضرت اقدس علیہ السلام کے سب صاحبزادوں اور صاحبزادی حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کے نکاح حضور اقدس کی زندگی میں ہی ہو گئے تھے۔صرف ایک صاحبزادی سیدہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ سلمہا اللہ تعالیٰ کا نکاح حضرت اقدس کی وفات کے بعد ۱۹۱۵ ء میں حضرت نوابزادہ میاں محمد عبد اللہ خانصاحب سے ہوا۔