حیات قدسی — Page 368
۳۶۸ فریقین کے لئے مساوات بھی رکھتی ہے۔اور اگر ہلالی صاحب کا مقصد مبلغ علم کا معلوم کرنا ہو جیسا کہ انہوں نے اس کے متعلق خود تحریر فرمایا ہے تو بحیثیت شانِ عالمانہ و فاضلانہ عربی زبان میں تحریری و تقریری مناظرہ کی صورت سے اپنی علمی قابلیت کا جو ہر اور مبلغ علم کا کمال پبلک پر عیاں فرما ئیں۔راقم ہذا اس طرح کے مناظرہ کے لئے بھی تیار ہے اور حاضر ہے۔اور اگر وہ عربی میں تفسیر نویسی کے مقابلہ کے لئے بھی تیار ہوں تو راقم اس مقابلہ کے لئے بھی حاضر ہے۔اور اگر عربی زبان میں تحریری مناظرہ یا تفسیر نویسی سے وہ عاجزا اور تمہیدست ہوں تو ہم انہیں اردو زبان میں تحریری اور تقریری مناظرہ کے لئے بھی موقع دینے کے لئے تیار ہیں۔تحریری مناظرہ میں کئی فوائد ہیں۔(۱) سب سے بڑا فائدہ تحریر میں یہ ہے کہ کوئی فریق غلط بیانی نہیں کر سکتا۔(۲) یہ کہ تحریر کے بعد کمی بیشی نہیں ہوسکتی۔(۳) یہ کہ علاوہ حاضرین کو پڑھ کر سنانے کے جو لوگ حاضر نہ ہوں ،تحریر سے وہ بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔(۴) یہ کہ تحریری مناظرہ میں وہ فتنہ اور فساد کی صورت جو صرف تقریری مناظرہ میں بعض دفعہ وقوع میں آتی ہے، اس سے امن رہتا ہے۔(۵) یہ کہ تحریری مناظرہ حکومت کے لئے بھی باعث تشویش نہیں ہو سکتا جیسا کہ صرف تقریری کے وقت ممکن ہے کہ باعث تشویش ہو۔(۶) یہ کہ تحریری مناظرہ کے پرچے مجمع میں سنائے جانے سے تحریری مناظرہ کے ساتھ تقریری مناظرہ کا فائدہ بھی دے سکتے ہیں۔(۷) یہ کہ تحریری مناظرہ بعد کی نسلوں کے لئے بھی بطور علمی یاد گار فائدہ بخش ہوسکتا ہے۔(۸) یہ کہ ہلالی صاحب کا یہ علمی کارنامہ جو تحریری مناظرہ کی صورت میں سہارنپور کی پبلک اور بعد کی نسلوں کے لئے قابل فخر آثار باقیہ سے ہو سکتا ہے۔تقریری مناظرہ کی صورت میں ناممکن ہے۔ہم عربی اور اردو دونوں طرح کے تحریری اور تقریری مناظرہ کے لئے حسب صورت پیش کردہ تیار ہیں۔ہاں بالکل تیار ہیں۔اب اس کے بعد بھی ہلالی صاحب اپنے کھلے فرار اور اپنی مستحق مذمت و ملامت