حیات قدسی

by Other Authors

Page 358 of 688

حیات قدسی — Page 358

۳۵۸ جزاکم اللہ کی صدائیں بلند ہونے لگیں۔پٹھانکوٹ میں یہی سوال اسی طرح میں ایک دفعہ ڈلہوزی سے واپس مرکز میں آرہا تھا۔رستہ میں پٹھانکوٹ اترا۔ابھی گاڑی آنے میں کافی دیر تھی۔میں اسٹیشن کے قریب ہی ایک مسجد میں نماز ادا کرنے کے لئے چلا گیا۔وہاں پر ایک حنفی المذہب مولوی عبد الکریم صاحب مع اپنے احباب کے آگئے جنہوں نے مجھ سے یہی شعر پڑھ کر سوال کیا۔اور میں نے اوپر کی بیان کردہ تشریح کے مطابق جو میں نے نحو کی مشہور کتاب مغنی اللبیب سے اخذ کی تھی۔ان کو جواب دیا۔جس سے وہ بہت ہی خوش ہوئے اور کہنے لگے کہ میں نے یہ سوال بہت سے علماء سے کیا ہے لیکن کوئی جواب نہیں دے سکا۔آج آپ کے جواب سے تسلی ہوگئی ہے۔جب دوران گفتگو ان کو علم ہوا کہ میں احمدی ہوں تو انہوں نے کہا کہ جب میرے سوال کا ہے جواب بہت سے علماء نہ دے سکے تو انہوں نے کہا کہ احمدیوں میں ایسے عالم ہیں جو اس عقدہ کو حل کر سکتے ہیں اور یہ عجیب بات ہے کہ آج آپ کے ذریعہ سے ہی یہ عقدہ حل ہوا۔اس کے بعد بعض مسائل کے متعلق ان سے تبادلہ خیالات ہوتا رہا۔اور انہوں نے قادیان جلسہ پر آنے کا وعدہ کیا۔اور ماہ دسمبر میں مع احباب قادیان آئے۔اور بفضلہ تعالیٰ احمدیت میں داخل ہو گئے۔بیعت کے بعد وہ مجھے ملے۔قبول احمدیت کی وجہ سے بہت ہی خوش تھے۔والحمد لله والشكر له على ما وفقه بقبول الحق وتسليم الحقيقة مدراس کو روانگی مکرم شیخ محمود احمد صاحب عرفانی نے جب میری علالت کے متعلق مفضل اطلاع سید نا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں بھجوائی تو حضور نے جوا با فرمایا کہ مدراس میں ایک بہت بڑا امریکن ڈاکٹر ہے جو ایسے دنبلوں کے علاج کا ماہر ہے بہتر ہے کہ علاج وہاں سے کروایا جائے۔چنانچہ احباب مالا بار سے رخصت ہو کر ہم خشکی کے رستہ مدراس پہنچے۔اور وہاں چوہدری ڈاکٹر محمد سعید صاحب کے ہاں فروکش ہوئے۔عزیز عرفانی صاحب اس امریکن ڈاکٹر سے