حیات قدسی — Page 320
۳۲۰ وقت کے بعد پھر آئے اور کہنے لگے کہ مجھے پیر صاحب قریب ہی ایک کمرہ میں مل گئے ہیں اور ان کو آپ کی ملاقات کا بے حد اشتیاق ہے۔اگر آپ تشریف لے جاسکیں تو فبہا۔ورنہ پیر صاحب یہاں آکر آپ سے ملاقات کر لیں گے۔چنانچہ خاکسار ، حافظ روشن علی صاحب اور مولوی مبارک علی صاحب مرحوم ان کی خدمت میں پہنچے۔وہ بہت تپاک سے ملے اور مصافحہ کیا۔جب افسر پولیس نے میری طرف اشارہ کر کے کہا کہ تصوف کے متعلق انہوں نے گفتگو کی تھی تو وہ بہت ہی خوش ہوئے اور مجھ سے دوبارہ مصافحہ کیا۔جب ان کو یہ علم ہوا کہ ہم قادیان سے آئے ہیں اور حضرت اقدس مرزا غلام احمد صاحب علیہ السلام کے مرید ہیں تو انہوں نے فرمایا کہ میرے پاس بھی حضرت مرزا صاحب کا منظوم کلام ہے۔اس کے بعد مختلف امور کے متعلق ان سے تبادلہ خیالات ہوتا رہا۔اور خدا کے فضل سے ہمیں ایک گھنٹہ تک تبلیغ کا اچھا موقع میسر آیا۔کچھ دن کلکتہ میں قیام کرنے کے بعد ہم وہاں سے برہمن بڑ یہ پہنچے۔ہماری رہنمائی کے لئے کلکتہ سے حافظ محمد امین صاحب احمدی جو نہایت مخلص اور پاک سیرت انسان تھے ساتھ روانہ ہوئے۔اور کئی ہفتہ تک لگاتار ہمارے ساتھ رہ کر خدمات بجالاتے رہے۔حافظ صاحب غالبا چکوال ضلع جہلم کے رہنے والے تھے۔برہمن بڑیہ کے اسٹیشن پر مولوی عبد الواحد صاحب " سینکڑوں احباب کے ساتھ ہمارے استقبال کے لئے موجود تھے۔جب ان مخلص احمدی دوستوں نے ہمیں دیکھا تو اس خیال سے کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ میں سے ہیں۔اور مرکز سلسلہ سے آئے ہیں۔بہت خوش ہوئے اور فرط مسرت سے اکثر دوستوں پر رقت طاری ہوگئی۔ہم جناب مولوی عبدالواحد صاحب کے گھر پر اُترے۔وہاں پر ایک بڑا درخت گڑبل کا دیکھا جس کو تربوز جتنے بڑے پھل لگے ہوئے تھے۔یہ پھل ہم نے پنجاب میں کبھی نہ دیکھا تھا۔بہت لذیذ اور شیر میں تھا۔برہمن بڑ یہ میں بڑے پیمانہ پر ایک جلسہ کا انتظام کیا گیا۔جس میں ہزار ہا لوگ آئے۔اس جلسہ میں سب ممبران وفد نے تقاریر کیں۔جب حضرت مولوی سرور شاہ صاحب کی تقریر شروع ہوئی تو وہاں کے ایک عالم مولوی واعظ الدین صاحب نے تقریر کے دوران میں ہی شور و شر اور اعتراضات شروع