حیات قدسی — Page 312
۳۱۲ وغیرہ کتب میں لکھا ہے بہت ہی مفید اور اکسیر بدن ہے۔بمبئی میں ورود ނ وہاں سے روانہ ہو کر ہم بمبئی پہنچے اور نواب سید رضوی صاحب کی وسیع وعریض بلڈنگ میں فروکش ہوئے۔خواجہ صاحب۔ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب اور سید لال شاہ صاحب برق جب دن کے وقت سیر و تفریح کے لئے باہر چلے جاتے تو خاکسار ایک علیحدہ کمرہ میں ذکر واذکار کرتا یا نفل پڑھتا۔یا تبلیغ کا موقع ملنے پر فریضہ تبلیغ ادا کرتا۔گاہے گا ہے خواجہ صاحب کے ساتھ جلسوں میں شمولیت اور تبلیغی ملاقاتوں کے لئے بھی جاتا۔ایک دن بمبئی کے مسلمانوں کی طرف سید عبدالرزاق صاحب بغدادی کی آمد پر ایک عظیم الشان جلسہ منعقد کیا گیا۔اس میں ہم بھی شامل ہوئے۔وہاں سے فراغت کے بعد بہائیوں کے مشن ہاؤس گئے۔اور محمد ہاشم صاحب سے جو بمبئی میں بہائی مذہب کے سرگرم مشنری تھے ملاقات کی۔انہوں نے بتایا کہ اس وقت لمبی گفتگو کا موقع نہیں۔کیونکہ ہمارے ساتھی مذہبی عبادت کے لئے جمع ہو رہے ہیں۔جو تخلیہ میں ادا کی جائے گی۔ہم نے عرض کیا کہ ہم بھی آپ کی عبادت کا نمونہ دیکھنا چاہتے ہیں لیکن انہوں نے کہا کہ ہم آپ لوگوں کا کے سامنے عبادت کرنا پسند نہیں کرتے۔اس پر میں نے عرض کیا کہ اسلام تو اپنی عبادت کی طرف اذان کے اعلان کے ذریعہ بلاتا ہے۔مؤذن دائیں طرف منہ کر کے اصحاب یمین یعنی مسلمانوں کو حَيَّ عَلَى الصَّلوة کے الفاظ سے نماز کے لئے بلاتا ہے۔اور بائیں طرف یعنی غیر مسلموں کو جو اصحاب الشمال کی نسبت رکھتے ہیں۔فلاح اور کامیابی کی طرف بلاتا ہے۔پس اگر آپ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا چاہتے ہیں تو لوگوں سے اس کو پوشیدہ رکھنے کے کیا معنے۔یہ سن کر محمد ہاشم صاحب نے کہا کہ اگر آپ با قاعدہ گفتگو کرنا ہی پسند کرتے ہیں۔تو اپنا ایڈریس دے جائیں۔ہم مقررہ وقت پر آپ کی قیام گاہ پر آجائیں گے۔چنانچہ خواجہ صاحب نے ایڈریس دے دیا۔محمد ہاشم صاحب بہائی سے گفتگو محمد ہاشم صاحب بعض اور معززین کے ساتھ چار بجے ہماری قیام گاہ پر آگئے۔ان کے آنے پر خواجہ صاحب مع ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب اور برق صاحب کے ان معزز مہمانوں کے ساتھ