حیات قدسی — Page 301
بولنے سنے والا بچہ جنتی۔یہ کیا بہرا اور گونگا اور ناکارہ بچہ جنا ہے۔جب میں تمسخر میں حد سے بڑھ گیا تو میری سالی کہنے لگی ” خدا سے ڈرو۔ایسا نہ ہو کہ تمہیں ابتلاء آ جائے۔اللہ تعالیٰ کی ذات تمسخر کو پسند نہیں کرتی “۔اس پر بھی میں استہزاء سے باز نہ آیا۔بلکہ ان کو کہتا کہ دیکھ لینا میرے ہاں تندرست اولاد ہوگی۔میری یہ بے با کی اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا باعث بنی اور میرے ہاں گونگے اور بہرے بچے پیدا ہونے لگے۔میں نے اس ابتلاء پر بہت استغفار کیا اور سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حضور بھی بار بار دعا کے لئے عرض کیا۔اللہ تعالیٰ نے میری عاجزی کو قبول فرمایا اور آخری بچہ تندرست پیدا ہوا۔جس کی شادی اب ہو رہی ہے۔اسی زمانہ میں کڑیا نوالہ میں حاجی کریم بخش صاحب جو ایک صوفی مزاج عالم تھے ، جماعت کے امام الصلوۃ تھے۔وہ تبلیغ کا بہت شوق رکھتے تھے اور حضرت اقدس مسیح موعود سے بھی سچی محبت رکھتے ہو تھے۔انہوں نے اوائل جوانی میں قادیان میں حاضر ہو کر حضور سے براہین احمدیہ حاصل کی اور مخالفین پر اس کتاب کے ذریعہ حجت کرتے رہے ، وہ دیر ہوئی وفات پاچکے ہیں رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔ان کے فرزند حافظ محمد افضل صاحب پنشنر بھی مخلص احمدی ہیں اور کتاب حصہ چہارم کی کتابت انہوں نے سرانجام دی ہے۔موضع خونن کا عجیب واقعہ موضع خونن ضلع گجرات میں ایک مستجاب الدعوات بزرگ حضرت جملے شاہ صاحب تھے۔گرد و پیش کے علاقہ میں ان کی بہت سی کرامات مشہور تھیں۔میرے والد ماجد کہتے تھے کہ جب ان سے بزرگ دریافت کرتے کہ آپ کو یہ برکت اور فیض کس طرح حاصل ہوا تو وہ بیان فرماتے کہ ایک دفعہ موسم سرما میں شدید بارش ہوئی۔میں مغرب کی نماز کے لئے مسجد میں گیا۔وہاں پر ایک کتیا جس کے چھ سات بچے تھے۔سردی اور بارش سے بچنے کے لئے ان بچوں کو مسجد کے حجرہ میں لے آئی۔اور ان کو ایک کونے میں ڈال دیا۔جب لوگ نماز سے فارغ ہوئے۔تو مسجد کے ملاں صاحب نے دیکھا کہ حجرے کے ایک کونے میں کتیا کے پلے سردی سے چیخ رہے ہیں۔کتیا اس وقت خوراک کی تلاش میں کہیں باہر گئی ہوئی تھی۔ملاں صاحب نے ان بچوں کو پکڑ کر باہر پھینک دیا۔اور وہ بارش میں بلکنے