حیات قدسی

by Other Authors

Page 300 of 688

حیات قدسی — Page 300

چند منٹ کے بعد ہم نے واپسی کی تیاری کی۔رستہ میں میں نے بندوق ایک لڑکی کو پکڑائی اور خود کچھ دور ہٹ کر پیشاب کرنے کے لئے بیٹھ گیا۔لڑکی نے لا پرواہی سے بندوق کا گھوڑا دبا دیا۔اور گولی میرے بائیں بازو پر لگی۔اور بازو سے خون کا فوارہ پھوٹ پڑا۔لڑکیاں تو اس حادثہ سے بہت پشیمان ہوئیں۔اور افسوس کرنے لگیں۔لیکن میں حدیث الاثم ماحاک فی صدرک : ( گناہ وہ ہے جو تیرے سینے میں کھٹکے ) کی خلاف ورزی کو اس سب مصیبت کا باعث خیال کرتے ہوئ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون پڑھ رہا تھا۔ایک عبرتناک واقعہ کڑ یا نوالہ ضلع گجرات میں میاں میراں بخش صاحب ، ٹھیکیدار محمد بخش صاحب، ڈاکٹر علم دین صاحب اور ڈاکٹر محمد اسمعیل صاحب چاروں بھائی حضرت اقدس علیہ السلام کے صحابہ میں سے تھے۔پہلے تین بھائی وفات پاچکے ہیں ( رضی اللہ تعالیٰ عنہم ) موخر الذکر بفضلہ زندہ ہیں۔۱۹۰۴ء میں میاں میراں بخش صاحب نے اپنے لڑکے کی شادی کے موقع پر سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو شمولیت کی دعوت دی۔حضور ان دنوں سیالکوٹ تشریف لائے ہوئے تھے اس بات کی قوی امید تھی کہ حضور اپنے خدام کی دعوت قبول فرما کر کڑیا نوالہ تشریف لائیں گے۔لیکن کسی مجبوری کی وجہ سے حضور اس تقریب میں شامل نہ ہو سکے۔چونکہ اردگرد کے علاقہ میں حضرت اقدس علیہ السلام کی کڑیانوالہ میں آمد کے متعلق مشہور ہو چکا تھا۔اس لئے بہت سے علماء گر ہوں پر کتا نہیں لاد کر مباحثہ کے لئے آگئے۔میاں میراں بخش صاحب نے مجھے گجرات سے بلا لیا۔چنانچہ کڑیانوالہ میں تبلیغ کرنے کا اچھا موقع مل گیا۔استہزا کا نتیجہ خطبہ نکاح پڑھانے کے بعد میں برات کے ساتھ گیا۔واپسی پر معلوم ہوا کہ اس شادی شدہ لڑکے کے سوا میاں میراں بخش صاحب کے سب لڑکے گونگے اور بہرے ہیں۔مجھے خیال آیا کہ یہ ابتلاء بلا وجہ نہیں ہو سکتا۔چنانچہ میں نے میاں میراں بخش صاحب سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ میری سالی کا ایک بچہ گونگا اور بہرا تھا میں نے بطور استہزا اس کو کہنا شروع کیا کہ اگر بچہ جننا تھا تو کوئی