حیات قدسی — Page 275
۲۷۵ جو موضع چکریاں کے زمینداروں میں سے تھے۔آنکلے۔ان کی طبیعت میں کبر اور تحکم کا مادہ بہت زیادہ تھا۔مجھے مخاطب کر کے کہنے لگے۔تو کیا مرزا مرزا کر رہا ہے۔مرزا کے سوا تجھے کچھ سوجھتا ہی نہیں اور حضرت اقدس کی شان میں بہت سے توہین آمیز الفاظ انہوں نے استعمال کئے۔میں نے کہا کہ آپ نے حضرت مرزا صاحب کے متعلق جو باتیں سنی ہیں وہ دشمنوں اور مخالفوں کی زبان سے سنی ہیں۔جو حضرت مرزا صاحب سے دور رہتے ہیں اور سوائے کورانہ تقلید کے اور کچھ نہیں جانتے۔جس کا طرح یہودیوں ، عیسائیوں اور ہندوؤں نے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے غلط خیالات اور تصورات کی وجہ سے انکار کیا اور آپ کی ذات والا صفات پر طرح طرح کے اعتراضات کئے اور اس کا میں عیوب و معائب نکالے تا کوئی شخص آپ پر ایمان نہ لا سکے ، یہی حالت ان مخالفین کی ہے۔حضرت مرزا صاحب کے پاس نہ تلوار ہے کہ وہ لوگوں کو مرعوب کر کے ایمان لانے پر مجبور کریں۔اور نہ آپ کے پاس مال و منال ہے کہ طمع اور لالچ دیں۔پس جو شخص آپ پر ایمان لاتا ہے وہ محض علم صحیح اور جوش اخلاص اور حسن نیت سے ایسا کرتا ہے۔اور آپ کی جماعت کا دن بدن بڑھنا اور باوجود انتہائی مخالفت کے بڑھنا آپ کی صداقت اور منجانب اللہ ہونے کا ایک بین ثبوت ہے۔یہ سن کر چوہدری فضل داد صاحب نے نہایت ہی کبر سے کہا۔کہ تمہیں مرزا کے ذریعہ سے کون سی بزرگی اور برکت ملی ہے جو ہمیں میسر نہیں۔اور ہم اس سے محروم ہیں۔میں نے جوا با عرض کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب مسیح موعود ظاہر ہوں گے۔تو وہ خدا تعالیٰ کی مقدس وحی کی روشنی میں امت کے اختلافات کا فیصلہ کریں گے اور سب فرقوں میں سے سعید روحیں اور نیک دل لوگ آپ کے فیصلہ کو قبول کر کے آپ کی معیت اختیار کریں گے۔پس آج خدا تعالیٰ کے فضل سے مسیح موعود علیہ السلام کے ظہور پر جہاں بہتر فرقے آباء واجداد کی کورانہ تقلید سے آسمانی فیصلہ کا انکار کر رہے ہیں۔ہمیں خدا تعالیٰ نے توفیق بخشی کی ہم نے آسمانی فیصلہ کو قبول کیا۔اور امام وقت کی بیعت کر کے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کو مانا۔پس ہمیں حضرت مرزا صاحب پر ایمان لا کر علم صحیح اور عقائد حقہ کی نعمت حاصل ہوئی۔اعمال صالحہ بجالانے کی توفیق ملی۔ہمیں آپ کے ذریعہ سے بے شمار آسمانی اور زمینی نشانات مشاہدہ کرنے کا موقع ملا۔اور خدا تعالیٰ کی ہستی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر پختہ اور کامل یقین حاصل ہوا۔اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پر عمل کر کے ہم زندہ خدا