حیات قدسی — Page 265
۲۶۵ مقام بھی حاصل کیا۔وہ مجھ سے بھی بہت محبت اور حسن ظنی رکھتے تھے۔حضور اقدس کی زیارت کے بعد ان میں سلسلہ حقہ کی تبلیغ کے لئے ایک خاص جذ بہ اور جوش اخلاص پایا جاتا تھا۔دن رات وہ اسی تر مشغل میں لذت اور سرور پاتے تھے۔اور حضرت اقدس کا نام ہر وقت بلند کرتے رہتے تھے۔ایک دفعہ چوہدری صاحب مجھے فرمانے لگے کہ یہ جو دست غیب کا مسئلہ ہے کہ بعض اعمال یا وظائف کے ادا کرنے سے کسی بزرگ کی توجہ اور برکت سے روزانہ کچھ مل جاتا ہے، یہ کہاں تک درست ہے۔میں نے جواباً ان کو بتایا کہ بعض مقدس ہستیوں کی دعا و برکت اور توجہ سے اللہ تعالیٰ ایسا فضل بھی فرما دیتا ہے۔اس پر وہ کہنے لگے کہ میرے اخراجات کثیر ہیں اور بوجہ بڑہاپے کے میں جوانی کی طرح محنت اور کام کر کے مالی منفعت حاصل نہیں کر سکتا اور خود داری اور غیرت کے باعث دست سوال دراز کرنا بھی معیوب خیال کرتا ہوں۔اس کا کوئی حل ہو جائے تو میری پریشانی کا ازالہ ہو سکے۔اس کے بعد کہنے لگے کہ دست غیب کا کوئی نمونہ آپ نے اپنے متعلق بھی مشاہدہ کیا ہے۔میں نے عرض کیا کہ میں نے تو قبول احمدیت کے بعد سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلفاء راشدین کی تحریک پر اپنی زندگی وقف کی ہوئی ہے۔اور آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ میرے ساتھ میرے رشتہ داروں اور غیروں کا سلوک کس طرح معاندانہ اور مخالفانہ رہا ہے۔اور اب بھی یہ سلسلہ شدید مخالفت کا چل رہا ہے۔میرے رشتہ کے متعلق بھی بائیکاٹ کیا گیا اور ہر طرح مجھے ذلیل اور حقیر کرنے کی کوشش اور منصوبے کئے گئے۔دور ونزدیک سے علماء مکفرین کی امداد سے مجھ پر کفر کے فتوے لگا کر مجھے اپنوں اور بیگانوں کی نگاہ میں رسوا کرنے کے لئے جد و جہد کی گئی۔لیکن میرے از لی وابدی محسن آقا نے محض اپنے لطف و کرم سے اس طوفان مخالفت اور تکفیر میں با وجود میری کم علمی ، نا تجربہ کاری اور بے سروسامانی کے میری خاص سر پرستی فرمائی اور میری ہر ضرورت اور حاجت کو اپنے فضل سے پورا فرمایا۔میری شادی کا انتظام بھی فرمایا، اولاد بھی دی اور اب تک میرا اور میرے اہل وعیال کا متکفل ہے۔یہ دست کرم اور دست غیب نہیں تو اور کیا ہے۔سلسلہ حقہ کی خدمت کی برکت سے اکثر اللہ تعالیٰ اپنے خاص فضل سے نوازتا ہے اور حاجت براری کرتا ہے۔بعض دفعہ عند الضرورت حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں اور حضور کے دور سعادت کے بعد آپ کے خلفاء عظام کی خدمت میں دعا کے لئے عرض کرتا ہوں اور جس