حیات قدسی — Page 226
۲۲۶ ایک تادیب نما واقعہ ۱۹۱۳ء میں خاکسار سید نا حضرت خلیفة المسیح اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ وارضاہ کے زیر علاج تھا۔ایک دن جب میں اپنی طبیعت کا حال بتانے اور دوائی لینے کے لئے حضور کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس وقت اور بھی بہت سے لوگ حضور کے گرد حلقہ نشین تھے۔اور آپ بیماروں کا حال دریافت کرنے اور ان کو ادویہ بتانے کی طرف متوجہ تھے۔اسی اثناء میں ایک صاحب ہندوستان کے کسی دور کے علاقہ سے آئے وہ اپنے ساتھ پھلوں کا ایک ٹوکرا حضرت کے حضور پیش کرنے کے لئے لائے تھے۔انہوں نے ٹوکرا حضور کے قریب رکھ دیا اور پھر بار بار حضور کی خدمت میں عرض کرنے کے لگے کہ جناب میں آپ کے لئے ٹوکرا پھلوں کا لایا ہوں۔حضرت چونکہ بیماروں کی طرف متوجہ تھے اس لئے ان کو جواب نہ دے سکے جب آپ فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ میں بیماروں کے علاج معالجہ میں مصروف تھا اور چونکہ وہ دیر سے میری انتظار میں تھے اور مزید روکنا ان کے لئے باعث تکلیف تھا اس لئے میں نے ان کو پہلے فارغ کر لینا مناسب سمجھا۔پھر آپ نے ایک نہایت ہی پر حکمت اور پُر معرفت بات بیان فرمائی جو ہمیشہ مجھے یا د رہتی ہے اور میرے دل پر اس کا بہت گہرا اثر ہے۔آپ نے فرمایا کہ اس میں کچھ شک نہیں کہ جو شخص محبت سے کسی کے پاس کوئی تحفہ پیش کرتا ہے وہ دل میں یہ خیال کرتا ہے کہ میرا یہ تفہ کسی معاوضہ کے طور پر نہیں بلکہ بطور احسان کے ہے۔لیکن اس خیال کے ساتھ ہی وہ یہ بھی سمجھ سکتا ہے کہ جس طرح میرا تحفہ پیش کرنا تحفہ قبول کرنے والے پر احسان ہے اسی طرح تحفہ قبول کرنے والے کا تحفہ پیش کرنے والے پر بھی احسان ہوتا ہے مثلاً یہ صاحب جو دور سے ہمارے لئے بطور تحفہ پھلوں کا ٹوکرا لائے ہیں اگر ہم اس تحفہ کو رد کر دیں اور قبول نہ کریں تو اس سے ان کو کس قدر تکلیف پہنچے گی۔اور اگر ہم اس کو قبول کر لیں تو اس سے ان کو خوشی اور مسرت حاصل ہوگی۔اس نکتہ معرفت و حکمت سے مجھے بہت ہی فائدہ پہنچا۔اس کے بعد جب مجھے کسی بزرگ ہستی کو اظہار عقیدت کے لئے کوئی حقیر تحفہ یا نذرانہ پیش کرنے کا موقع ملتا ہے اور وہ تحفہ قبولیت کا شرف حاصل کر لیتا ہے تو بجائے اس کے کہ میں اپنے خیال میں اپنا احسان محسوس کروں میں تحفہ قبول کرنے والے بزرگ یا دوست کا اپنے آپ کو زیر احسان سمجھتا ہوں کہ اس نے میرے حقیر تحفہ کو رد نہ کر کے