حیات قدسی — Page 213
٢١٣ تکفیر و تکذیب کے نیچے ہیں اور اہل زمین ان کو نہیں پہچانتے لیکن اہل سماء کے نزدیک ان کی شان بہت ہی بلند ہے۔اس پر حضرت حافظ صاحب نے اپنا رویا بتایا کہ انہوں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ کا دربار ہے اور اس میں سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ اور سلسلہ کے خدام اور کارکنوں کو خطاب دیئے جا رہے ہیں جب اس تعلق میں مولوی غلام رسول را جیکی دربار الہی میں پیش ہوئے تو آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ”سلطان العارفین“ کا خطاب دیا گیا۔اس رؤیا کوسن کر میں نے عرض کیا کہ چونکہ رویا تعبیر طلب ہوتی ہے اس لئے میری فہمید کے مطابق غلام رسول سے مراد رسول کا بیٹا یعنی حضرت سید نا محمود ہیں۔اور سلطان العارفین کا خطاب آپ پر ہی چسپاں ہوتا ہے اور آپ کے علمی افاضہ اور معارف سے ہمیں بے حد فائدہ پہنچتا رہتا ہے ہاں ممکن ہے کہ کسی بروزی مناسبت سے بشارت کسی پہلو سے مجھ پر بھی اطلاق پاتی ہو۔واللہ اعلم بالصوابُ شمس العارفین اسی طرح ایک دفعہ جب میں لائل پور شہر میں وارد ہوا تو چوہدری عبد الاحد صاحب پروفیسر زراعتی کالج مجھے مل کر بہت خوش ہوئے اور مجھے اپنے گھر لے گئے کھانا کھانے کے بعد دو تین گھنٹہ تک چوہدری صاحب مجھے اپنی بعض رؤیا سناتے رہے جس میں ایک یہ بھی تھی کہ میں نے دیکھا کہ میں جنت کے ایک کمرہ میں ہوں۔جہاں ایک بہت بڑا رجسٹر رکھا ہے اس رجسٹر میں سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ کے نام معہ ان کی تصاویر کے لکھے ہیں اور ساتھ ہی ان کے خطابات بھی اظہار مراتب کے طور پر مرقوم ہیں۔چنانچہ میں نے بنظر اشتیاق اس رجسٹر کو دیکھنا شروع کیا اور مختلف صحابہ کے ناموں اور ان کی تصویروں کو دیکھا۔دیکھتے دیکھتے ایک صفحہ پر شمس العارفین مولوی غلام رسول را جیکی “ کے الفاظ دیکھے اور آپ کی تصویر بھی دیکھی۔اس کے بعد میں خواب سے بیدار ہو گیا اور اس وقت سے آپ کو ملنے کا بہت اشتیاق میرے دل میں پیدا ہوا۔میں نے پروفیسر صاحب سے یہ رویا سن کر عرض کیا کہ ایاز قدرِ خود بشناس“ کے مقولہ کے مطابق مجھے اپنی قدر اور حیثیت معلوم ہے۔کہاں میں اور کہاں شمس العارفین کا خطاب۔اگر اس خطاب کا حقیقی مصداق اس زمانہ میں کوئی ہے تو وہ حضرت امام وقت ایدہ اللہ بنصرہ العزیز ہیں۔ہاں