حیات قدسی — Page 212
۲۱۲ میرے سر پر ایک تاج رکھا گیا۔اسی طرح کا منظر مجھے دوسری دفعہ دکھایا گیا۔جب مجھے سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ عنہ وارضاہ کی وفات کے بعد سید نا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے دوبارہ لاہور میں خدمات دینیہ کے لئے مامور فرمایا۔اس دوسرے جشن کے موقع پر بھی میں نے مجمع میں حضرت عرفانی صاحب کو دیکھا اور وہی میری تاجپوشی کے لئے اعلان کر رہے ہیں۔ان دونوں خوابوں کی تعبیر میری سمجھ میں یہ آئی کہ صدر خلافت کی نیابت اور نمائندگی میں خدمات دین کا بجالا نا آسمانی حکومت کے نزدیک ایک خادم دین کے لئے تاج عزت ہے اور جماعتی نظام کے ماتحت ایک حقیر سے حقیر خدمت بھی دنیا کے تاج و تخت سے کم نہیں۔جب میرے جیسے عبد حقیر اور احقر خادم کو بھی نظام سلسلہ کے ماتحت خدمات بجالانے پر یہ فضل اور موہت اور برکت مل سکتی ہے تو جو لوگ سید نا حضرت مسیح الاسلام علیہ السلام کے اخص خدام اور صحابہ عظام میں سے ہوئے ہیں انہیں عزت و شرف کا کتنا اعلیٰ مقام حاصل ہے۔سلطان العارفین ایسی بشارات جن کا ابھی ذکر کیا گیا ہے صرف میرے ذاتی انکشاف رؤیا سے ہی مخصوص نہیں بلکہ از روئے حدیث نبوی المؤمن يرى ويُرى له بعض صلحاء کو بھی میری نسبت ایسی ہی کا بشارات کا علم دیا گیا۔چنانچہ ایک دفعہ قادیان کے مہمان خانہ میں میں حلقہ احباب میں قرآن کریم کے بعض حقائق و معارف سنا رہا تھا۔درس کے بعد بعض احباب نے ان حقائق و معارف کے متعلق کچھ تعریفی کلمات کہے تو میں نے عرض کیا کہ ہم بھی دوسرے غیر احمدیوں کی طرح اجہل الجہلاء تھے اور ضلالت اور جہالت میں مبتلا تھے۔لیکن سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے فیضان محبت سے یہ سب کچھ حاصل ہو گیا ورنہ یہ باتیں میری طبع زاد نہیں اور نہ ہی میری استعداد ناقص کی پیدا وار ہیں۔جب میں نے یہ الفاظ کہے تو حضرت حافظ محمد ابراہیم صاحب رضی اللہ عنہ نے جو پرانے صحابہ میں سے تھے اور اس حلقہ احباب میں موجود تھے فرمایا کہ واقعی سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شان افاضہ بہت ہی بلند مرتبہ رکھتی ہے۔اس وقت تو آپ اور آپ کے صحابہ علماء سوء کے فتاویٰ اور