حیات قدسی

by Other Authors

Page 183 of 688

حیات قدسی — Page 183

۱۸۳ شکر اللہ صحبت گلها پس از دور خزاں از حدیث فیض پاکاں تحفہ چوں عنادل در چمن وقت بہارے یافتیم پر دوستاں پیش کردیم آنچه خود از یادگاری یافتیم رونقی در محفل عشاق از یاد حبیب گفتگوئے عشق از بزم نگاری یافتیم این گل تازه شمر از روضه احمد نبی شکرِ حق این نعمت از پروردگارے یا فتیم دوستاں گوئند بعد از رحلت قدسی فقیر این نشان قافله رفتہ زیارے یا سید نا حضرت خلیفہ المسیح اول رضی اللہ عنہ کی شاگردی میں اس عاجز حقیر کے لئے قابل فخر اور مایہ ناز وہ علوم ہیں جو قرآن کریم اور احادیث نبوی کے علاوہ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام اور آپ کے مقدس خلفاء کی تصانیف مبارکہ اور کلمات طیبہ سے مجھ کو حاصل ہوئے۔لیکن یہ خدا تعالیٰ کا خاص فضل ہے کہ مجھے سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الاول کے سامنے خاص طور پر زانوئے تلمذ طے کرنے کا بھی موقع ملا۔سید نا حضرت اقدس علیہ السلام کے زمانہ میں جب کبھی میں قادیان میں آتا تو حضرت حکیم الامیہ مجھے فرماتے کہ آپ چونکہ ذہین ہیں اس لئے ضرور مجھ سے طب پڑھ لیں میں آپ کو تھوڑے ہی عرصہ میں علم طب پڑھا دوں گا۔مجھے ان دنوں طب سے کوئی دلچسپی نہ تھی بلکہ تصوف اور قرآن کریم سے روحانی نکات کے حصول کے متعلق استغراق تھا۔اس لئے حضور کی فرمائش کو پورا کرنے کے لئے گریز ہی کرتا رہا۔یہاں تک کہ جب ۱۹۰۵ء میں زلزلہ کے ایام میں سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام مع اہل بیت اور صحابہ کرام باغ بہشتی مقبرہ میں فروکش ہوئے تو ان دنوں مجھے حکیم الامۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خود ہی کتب طب میرے لئے مہیا فرما ئیں اور اپنے پاس بٹھا کر طب کا سبق دینا شروع فرمایا۔