حیات قدسی — Page 184
۱۸۴ طب احسانی کے ختم کرنے کے بعد میزان الطب پڑھائی اور طب کے نظری اور عملی حصہ سے اور ضروری قواعد وضوابط سے مجھے آگاہ فرمایا۔آپ کی بار بار کی توجہ نے میری کایا پلٹ دی اور مجھے طب کا بے حد شوق پیدا ہو گیا۔چنانچہ میں نے اپنے طور پر طب کی بڑی بڑی کتب مطالعہ کیں۔قانون شیخ ، موجز اور اس کی شرح، اور کفایہ منصوری، طب اکبر، قانون علاج تالیف سراج، مخزن الحکمت مصنفہ ڈاکٹر غلام جیلانی۔اور مختلف قرابادینیں وغیر ہا مجھے زیادہ دلچپسی خواص الادویہ، اور خواص مفردات سے رہی ہے۔چنانچہ میں نے مخزن الادویه، محیط اعظم ، خزائن الادویہ اور خواص الادویہ کو دلچسپی سے پڑھا۔اور علم کیمیا کے متعلق کتب علامہ جلا کی اور ابن حیان اور تکلو شاہ بابلی اور مخزن الا کسیر ہرشش حصے۔حکیم پائیلٹی کے نیز المفتاح والمصباح ہفت کنوز ، الدر التيمه في الصنعة الكريمه، رموز الاطباء، ذخيرة الاطباء، اکسیر اعظم الدرة البيضاء في صنعة الاکسیر والکیمیا۔البدر المنير في علم الاسیر ، مجمع البحرین نزہتہ الا کسیر ، نور العیون وغیرہ مطالعہ کیں۔اسی طرح علم جفر کی بہت سی کتب کا بھی مطالعہ کیا مثلاً مفتاح الجفر اردو، الکوکب الدری عربی۔مفتاح الاستخراج فارسی - دائرة البروج - علم فلکیات میں انوار النجوم اور نیر اعظم علم نجوم میں سراج الرمل، صادق الرمل ، انوار الرمل علم رمل میں جواہر خمسہ عملیات میں اسی طرح حدائق العلوم یعنی ستنی مصنفه امام رازی جامع العلوم مصنفہ شیخ بوعلی سینا بھی پڑھی اور اسی طرح کتب تفاسیر، علم احادیث ، علم فقہ، علم تصوف ہزارہا کی تعداد میں مطالعہ کی اللہ تعالیٰ نے مجھے توفیق بخشی۔میں نے باقاعدہ درسگاہوں سے کم استفادہ کیا ہے۔لیکن سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کے خلفاء عظام کی توجہ و برکت سے میرے اندر علم کے حاصل کرنے کے لئے ایک خاص دلچسپی اور شوق پیدا ہو گیا۔فالحمد للہ علی ذالک۔علم کی قدر و منزلت حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام حلقہ احباب کے اندر مسجد مبارک میں اپنے کلمات بیان فرما رہے تھے اسی دوران میں آپ نے ذکر فرمایا کہ میں گھر کے صحن میں ٹہل رہا تھا کہ میری لڑکی مبارکہ ( حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ اطال الله بقاءھا ) جو پانچ چھ سال کی ہے، اس کے منہ