حیات قدسی

by Other Authors

Page 114 of 688

حیات قدسی — Page 114

۱۱۴ اس نماز کے ذریعہ آپ کو حاصل ہوا ہے اور اس کے بعد آپ کو نماز کی ضرورت نہیں رہی کیا وہ یقین کا مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی نماز کے ذریعہ حاصل ہوا تھا یا نہیں۔اگر اس کے جواب میں آپ یہ کہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس نماز کے ذریعہ خدا تعالیٰ کی درگاہ میں پہنچے ہوئے تھے اور یقین کا مرتبہ بھی انہیں حاصل ہو چکا تھا تو پھر اس کی کیا وجہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اس نماز کو آخری سانس تک نہیں چھوڑ ا مگر آپ نے اسے ترک کر دیا ہے۔اس کے بعد میں نے اسے یہ بھی بتایا کہ انسان خواہ عبودیت کے کسی مقام پر پہنچ جائے وہ عبودیت کے دائرہ ہی میں رہتا ہے اس کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ وحدت الوجود اور ہمہ ا دست کے عقیدہ کے مطابق بندہ سے خدا بن جاوے اور انسان سے اللہ کہلانا شروع کر دے۔یہی وجہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم باوجود یکہ دنیا میں عبودیت کے لحاظ سے کامل واکمل انسان تھے اشهد ان محمداً عبده ورسوله کی شہادت کے مطابق اپنے عبد ہونے کا اعلان فرماتے رہے اور ہر ایک نماز میں ایاک نعبد و ایاک نَستَعینُ میں اپنے خدا سے عید کامل بنے کی دعا فرماتے رہے۔مزید برآں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی اس آیت میں بھی کہ يَايَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عِبَادِي وَادْخُلِي جَنَّتِی یہی بات بتائی ہے کہ انسان کا نفس خواہ امارہ سے تو امہ اور لوامہ سے مطمئنہ بھی کیوں نہ بن جائے وہ ادخلی فی عبادی “ کی رُو سے بندوں میں ہی شامل رہے گا خدا نہیں ہوسکتا۔میرے ان جوابات کو سن کر شاہ صاحب لا جواب ہو گئے اور لوگوں کو بھی سمجھ آگئی کہ شاہ صاحب کے یہ فقیرانہ ڈھکوسلے جو وحدۃ الوجود سے تعلق رکھتے ہیں صحیح نہیں۔اس کے دوسرے تیسرے دن پھر میں نے شاہ صاحب کی سی حرفی کے جواب میں ایک سی حرفی لکھی جس کا نام ” جام وحدت “ رکھا۔یہ سی حرفی جب میں نے شاہ صاحب کو سنائی تو کہنے لگے واقعی آپ کا حق ہے کہ آپ جس طرح چاہیں مجھ سے گفتگو کریں۔اس سی حرفی کی اس زمانہ میں ضلع گجرات میں عام شہرت تھی اور اسے سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے عہد مبارک میں سید عبدالحئی صاحب 66 عرب نے شائع بھی کیا تھا۔اس کے چند اشعار مندرجہ ذیل ہیں۔الف۔اللہ اکبر شانِ الہی برتر و ہم خیال کنوں ایہہ عالم مظہر عکسی شیشہ جسدے عین کمال کنوں