حیات قدسی — Page 113
١١٣ پیر شاہ ہمارے گاؤں موضع را جیکی میں آیا اور چونکہ ہمارے گاؤں کا نمبر دار اس کا معتقد تھا اس لئے اس نے آتے ہی اس کے گھر میں ڈیرہ جمالیا اور شراب اور بھنگ کا دور چلنا شروع ہو گیا۔علاوہ ازیں اس کے ساتھیوں نے جن میں کچھ مرد اور عور تیں بھی شامل تھیں ڈھولک پر یہ شعر بھی گانا شروع کر دیا کہ کھٹ کے لیا ندیاں سلائیاں کنجیاں بہشت دیاں ہتھ پیر شاہ دے آئیاں اس شعر کا پہلا مصرعہ تو بے تعلق سا ہے مگر دوسرے مصرعہ کا مطلب یہ ہے کہ بہشت کی چابیاں پیر شاہ کومل گئی ہیں۔ہمارے گاؤں کے بعض لوگوں نے جب اس سید کی یہ بے راہ روی دیکھی تو انہوں نے اس سے کہا کہ شاہ صاحب آپ اچھے آلِ رسول ہیں کہ نماز بھی نہیں پڑھتے اور شراب اور بھنگ بھی پیتے ہیں۔کہنے لگے میاں نماز تو خدا تعالیٰ کی درگاہ میں پہنچانے والی ایک سواری ہے اور سواری کے اس وقت تک کام دیتی ہے۔جب تک انسان منزلِ مقصود تک نہ پہنچے اب تم ہی بتاؤ کہ جب ہم خدا تعالیٰ کی درگاہ میں پہنچ چکے ہیں تو ہمیں اس سواری کی کیا ضرورت ہے۔گاؤں کے لوگوں نے جب اس کا یہ جواب سنا تو مجھے اس کے پاس لے گئے۔چنانچہ میرے ساتھ جب اس کی گفتگو ہوئی تو اس نے میرے سامنے بھی یہی ڈھکوسلا پیش کیا بلکہ مزید برآں یہ بھی کہا کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وَاعْبُدُرَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيكَ الْيَقِينُ 5 کہ تو اپنے رب کی عبادت کر یہاں تک کہ تجھے یقین حاصل ہو جائے۔اور اس کے بعد اس نے کہا کہ چونکہ مجھے کامل یقین حاصل ہو چکا ہے الہذا مجھے عبادت کی ضرورت نہیں۔اس کے بعد اس نے مجھے اپنی ایک سی حرفی بھی سنائی جو اسی قسم کے خیالات پر مبنی تھی اور پھر یہ بھی کہا کہ میرے ساتھ وہ شخص بات کرنے کا حق رکھتا ہے جو میری اس کا سی حرفی کا جواب لکھ دے۔میں نے کہا کہ اس سی حرفی کا جواب تو بعد میں دیکھا جائے گا پہلے آپ اپنی پہلی دو باتوں کا جواب سن لیجئے۔میں نے کہا کہ شاہ صاحب آپ یہ بتائیے کہ نماز کی یہ سواری جس کے ذریعہ آپ خدا تعالیٰ کی درگاہ میں پہنچ چکے ہیں اور اس کے بعد آپ کو اس سواری کی ضرورت نہیں رہی۔کیا اس سواری کے ذریعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی خدا تعالی کی درگاہ میں پہنچے تھے یا نہیں اور کیا یقین کا وہ مرتبہ جو