حیات قدسی — Page 614
۶۱۴ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَ رَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ کے فقرہ میں لفظ نبی کے نیچے اَلسَّلَام عَلَيْنَا وَ عَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّلِحِينَ فرما کر عَلَيْنَا کی ضمیر جمع متکلم جو مجرور واقع ہوئی ہے اس سے عِبَادِ اللهِ الصَّلِحِینَ کی شمولیت کی وضاحت فرما دی کہ النبی اپنے سلسلہ نبوت کے امتداد کے لئے عِبَادِ اللهِ الصَّلِحِینَ کے وجود کا بالضرور مقتضی ہے تا نبی کی شخصی زندگی کے خاتمہ کے بعد آل نبی اور عباد اللہ الصالحین اس کی تعلیم اور امانت نبوت کے حامل پائے جائیں۔سو جس طرح السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ الخ کے فقرہ کے بعد السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّلِحِينَ فرما کر نبی کے ساتھ عباداللہ الصالحین کا الحاق فرما یا اسی طرح اللَّهُمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمَّدٍ اور اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ الخ میں وَ عَلى آلِ مُحَمَّدٍ کے الحاق کو پیش کیا اور سلام کے الفاظ میں جنہیں عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِینَ کے وصف سے نامزد کیا۔انہیں صلوۃ والی بشارت میں آل محمد کے لفظ سے تعبیر کر دیا۔اس وضاحت اور الحاق سے آپ کی امید افزاء بشارت نے بتا دیا کہ جو کمالات قرب الہی اور وصل الہی کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حاصل ہیں وہ سب کے سب ظلمی طور پر آپ کی آل کو وراثتاً عطا ہو سکتے ہیں یہی وجہ ہے کہ الصلواۃ معراج النبی نہیں فرمایا بلکہ الصلوة معراج المؤمن 97 فرمایا کہ اس معراج میں ہر ایک مومن اپنے نبی کی اقتدا میں ظلّی طور پر حصہ دار ہے۔ايها النبی کے خطاب میں ایک خاص نکتہ یہ بات کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو فوت ہو چکے ہیں اور حاضر نہیں پھر آپ کو التحیات میں بیٹھ کر ایہا الفہمی کے صیغہ مخاطب سے پکارنا کس وجہ سے ہے؟ اس کے متعلق عرض ہے کہ یہ خطاب شخصی حیثیت سے نہیں کیا جاتا۔یہی وجہ ہے کہ السَّلَامُ عَلَیک یـا مـحـمـد نہیں کہا جا تا اور جہاں درود شریف میں محمد کا لفظ لایا گیا ہے وہاں اللهم صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ کے الفاظ سے خطاب خدا تعالیٰ سے کیا ہے اور محمد اور آل محمد کو صیغہ غائب کی حیثیت میں پیش کیا ہے ایھا النبی کے صیغہ خطاب کو لانے سے یہ مدعا ہے کہ مومن نماز کے آخری نتیجہ میں اور اس کے آخری حصہ میں روحانیت کے اس بلند تر مقام کو جس کے حصول کے لئے نماز کو معراج بتایا گیا ہے حاصل کر کے صرف شخصی