حیات قدسی — Page 46
۴۶ کی دعا کو ایسا قبول فرمایا کہ ایک سال تک چوہدری اللہ داد غیبی امداد اور مالی فتوحات کے کرشمے اور عجائبات ملا حظہ کرتے رہے۔اس کے بعد سوء اتفاق سے یہ دعا چوہدری اللہ داد صاحب سے ضائع ہو گئی اور وہ دستِ غیب کا سلسلہ ختم ہو گیا۔دست شفاء میں ایک دفعہ تبلیغ کی غرض سے موضع رجوعہ اور ہیلاں تحصیل پھالیہ کی طرف گیا ہوا تھا کہ میرے ایک دوست چوہدری کرم داد ولد چوہدری راجہ خاں وڑائچ ساکن خوجیانوالی بعارضہ بخار بیمار ہو گئے اور بخار کی حالت میں انہیں سر درد کا ایسا شدید دورہ پڑا کہ آں موصوف نے اس کی شدت کی وجہ سے اپنا سر دیواروں سے ٹکرانا شروع کر دیا۔ان کے گھر والوں نے جب ان کی یہ نا گفتہ بہ حالت دیکھی تو انہوں نے اس علاقہ کے مشہور طبیب حکیم غلام حسین کو بطور معالج کے منگایا اور ساتھ ہی قرآن مجید کے بعض حفاظ کو دم کرنے کے لئے بلا بھیجا۔چوہدری کرم داد کی حالت جب پھر بھی نہ سنبھلی تو ان کے اصرار پر ان کا بھائی چوہدری حسن محمد مجھے بلانے کے لئے موضع را جیکی سے ہو کر موضع رجوعہ اور پھر ہیلاں پہنچا اور میرے پاس چوہدری کرم داد کی ساری کیفیت بیان کی۔میں یہ سنتے ہی جب موضع خوجیا نوالی پہنچا تو حکیم غلام حسین جو احمدیت کے متعلق کسی قدر مخالف اور معترضانہ صورت میں باتیں کر رہا تھا مجھے دیکھتے ہی کہنے لگا کہ مولانا صاحب آپ بھی کر مرزائی ہیں اور یہ مرض بھی ہم اطباء کے نزدیک مایوس العلاج ہو چکا ہے۔اب اگر آپ کوئی مرزا صاحب کی برکت کا معجزہ دکھا ئیں تو معلوم ہو کہ آپ کا مرزائی ہونا اور مرزا صاحب کا مہدی ومسیح ہونا کیا وزن رکھتا ہے۔حکیم غلام حسین کا یہ کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے میرے اندر ایک بجلی کی سی رو چلا دی اور میں لوگوں میں سے گذر کر چوہدری کرم داد کے پاس پہنچا اور السلام علیکم کہا۔انہوں نے جب میری آواز سنی تو کہنے لگے خدا کا شکر ہے کہ آپ تشریف لے آئے ہیں اب میں خدا کے فضل سے اچھا ہو جاؤں گا۔چنانچہ اسی وقت میں نے ان کے بندھے ہوئے سر سے پڑکا ا تارا اور اپنا ہاتھ ان کے ماتھے پر رکھا۔ابھی کوئی دس منٹ ہی گذرے ہوں گے کہ ان کا بخار اور سر درد غائب ہو گیا۔میں نے ان سے حالت دریافت کی تو کہنے لگے اب تو بالکل اچھا ہوں میں نے اسی وقت حکیم غلام حسین کو بلایا اور کہا اب آپ بھی مریض کو دیکھ لیں۔چنانچہ حکیم غلام حسین نے جب چوہدری کرم داد کو بیٹھے ہوئے دیکھا اور اس کی نبض پر ہاتھ رکھا تو حیرت زدہ