حیات قدسی — Page 574
۵۷۴ ۱۹۳۷ء میں میں نے صوفی صاحب کی نسبت ایک منذر رویا دیکھا کہ ان کا چہرہ سیاہ ہو گیا ہے۔نیز یہ بھی دیکھا کہ اخبار الفضل میں ان کے متعلق اخراج از جماعت کا اعلان ہوا ہے۔میں نے بوجہ دیرینہ تعلقات محبت کے از راہ ہمدردی صوفی صاحب کو اطلاع دی کہ میں نے آپ کے متعلق ایک شدید منذر رویا دیکھی ہے۔آپ خاص طور پر استغفار اور تو بہ کریں اور اصلاح کی طرف قدم بڑھا ئیں۔صوفی صاحب نے مجھے لکھا کہ آپ یہ بتائیں کہ وہ رویا کیا ہے اور کب پوری ہوگی۔میں نے لکھا کہ آپ بجائے رویا کی تفصیل دریافت کرنے کے استغفار اور اصلاح کی طرف توجہ کریں۔رویا بہت منذر ہے لیکن تو بہ سے اللہ تعالیٰ کی قضاء مل سکتی ہے۔اس کے بعد بھی صوفی صاحب رؤیا بتانے پر اصرار کرتے رہے۔آخر میں نے صوفی صاحب کے اصرار کی وجہ سے ان کو رؤیا سے اطلاع دے دی اور لکھا کہ اگر آپ اصلاح کی طرف توجہ نہ کریں گے تو آپ کا اخراج از جماعت ۱۹۴۰ء تک ہو جائے گا چنانچہ ایسا ہی وقوع میں آیا۔اب معلوم ہوا ہے کہ صوفی صاحب جماعت احمدیہ سے بہت دور ہو چکے ہیں۔انا لله و انا اليه راجعون پیرا پہاڑیا سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے عہد سعادت میں حضور اقدس کے ہاں گوجر قوم کا ایک پہاڑی شخص ملازم تھا جو بہت ہی سادہ طبع تھا۔اس کا نام پیرا تھا۔ایک دن وہ حضرت خلیفة المسیح اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مطب میں آ گیا۔آپ نے اس سے دریافت کیا۔تمہارا مذہب کیا ہے وہ اس وقت وہاں سے چلا گیا اور کچھ دیر کے بعد ایک پوسٹ کارڈ لے آیا اور حضور کو عرض کرنے لگا کہ میرے گاؤں کے نمبر دار کو یہ خط لکھ دیں۔آپ نے فرمایا کہ یہ خط کس غرض کے لئے لکھانا ہے۔کہنے لگا آپ نے جو دریافت کیا تھا۔کہ میرا مذہب کیا ہے آپ ہمارے گاؤں کے نمبر دار کو لکھ کر دریافت کر لیں اس کو معلوم ہے۔حضرت نے یہ سن کر تعجب فرمایا کہ اس کی سادگی کس حد تک پہنچ چکی ہے کہ اس کو اپنے مذہب کا علم نہیں۔ایک دفعہ حضرت خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ عنہ نے اس کو نماز پڑھنے کی تلقین کی۔وہ اس