حیات قدسی

by Other Authors

Page 565 of 688

حیات قدسی — Page 565

کی سعادت بھی حاصل ہو چکی تھی ( اس واقعہ کا ذکر چوتھی جلد میں گذر چکا ہے ) اس تقریب پر چوہدری عنایت اللہ صاحب نے بہت سے غیر احمدی سکھ اور عیسائیوں کو بھی مدعو کیا۔اور مجھے فرمایا کہ اس موقع پر ایسا خطبہ دیا جائے کہ سب مذاہب والے اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔ذیلدار صاحب کے گھر کے قریب ہی مسجد تھی میں اس میں چلا گیا اور اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی کہ وہ اپنے خاص فضل سے مجھے ایسی تقریر کرنے کی توفیق دے جو سب سامعین کے لئے فائدہ بخش ہو۔میں دعا کر رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہایت شیریں اور دلپسند لہجہ میں مجھ پر مندرجہ ذیل پنجابی منظوم کلام نازل ہوا۔سمجھو حمد خدائے نوں جیندی مثل نہ کو اکوع اتے مجید نوں جس نے بخشی گو اس الہام میں اکوع اور مجید کے متعلق مجھے تفہیم ہوئی کہ یہ زبان کے نیچے کی دور گئیں ہیں جو گویائی میں کام دیتی ہیں۔اور دوسرے مصرعہ میں گو کا لفظ گویائی کا مخفف ہے۔مجھے اس بشارت سے ایک گونہ تسلی ہوئی اور اس کے چند منٹ بعد مجھے خطبہ نکاح کے لئے بلایا گیا۔حاضرین کی تعداد کئی سو تھی۔خطبہ شروع ہوا تو اللہ تعالیٰ نے روح القدس سے تائید فرمائی اور میری زبان پر فلسفہ نکاح اور حکمت تزویج کے متعلق ایسے معارف جاری ہوئے کہ تمام حاضرین نہایت محظوظ ہوئے اور بار بار اس بات کا اظہار کرنے لگے کہ ایسے حقائق اس سے پہلے سننے میں نہیں آئے میں نے عرض کیا کہ یہ فیض اور برکت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ہے اور آپ کی تعلیم کے ماتحت یہ معارف بیان کئے گئے ہیں۔مجھے اس کامیابی پر اس لئے بھی زیادہ خوشی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا حضرت اقدس علیہ السلام اور آپ کے خلفاء عظام کی برکت سے قبل از وقت بذریعہ الہام مجھے بشارت دے کر میرے ایمان کو تازہ کیا۔مجھے اس بات کا علم نہیں کہ زبان کے نیچے کس قسم کی رگیں ہیں جو گویائی میں مدد دیتی ہیں یا ان کا کیا نام ہے لیکن بذریعہ الہام مجھ پر یہی انکشاف ہوا۔والله اعلم باسراره و الشكر لله | ربّ العلمين ایک علمی اشکال کا حل ایک عرصہ کی بات ہے کہ خاکسار بسلسلہ تبلیغ فیروز پورشہر میں مقیم تھا کہ بعض احباب