حیات قدسی — Page 564
۵۶۴ سے میرے دیرینہ تعلقات تھے۔بلکہ چوہدری علی بخش صاحب کی بیعت مع بعض دیگر افراد خاندان کے بفضلہ تعالیٰ میری کوشش سے ہی ہوئی تھی۔چوہدری علی بخش صاحب تعلیم یافتہ اور حد درجہ کے متعصب اور مخالف احمدیت تھے۔اور ان کے لڑکے مکرم چوہدری شیر محمد صاحب احمدی ہو چکے تھے۔دونوں کے درمیان مذہبی اعتبار سے بہت انشقاق اور اختلاف رہتا تھا۔جب میں چک نمبر ۳۳ گیا اور چوہدری شیر محمد صاحب کی تحریک پر میں ان کے مکان کے صحن میں تقریر کرتا تو چوہدری علی بخش صاحب کمرے کے اندر چھپ جاتے اور جب میں اندر جا کر ان سے گفتگو کرنا چاہتا تو باہر چلے جاتے۔علماء سوء اور متعصب پیروں اور سجادہ نشینوں سے وہ بے حد متاثر تھے اور کسی احمدی کو ملنا یا اس کی باتیں سننا ان کو ہرگز گوارا نہ تھا۔ایک دن جب میں صحن میں لوگوں کے سامنے تصوف کے مسائل اور روحانی حقائق بیان کر رہا تھا اور وہ کمرے کے اندر تھے تو بعض باتیں ان کے کان میں بھی پڑیں۔ہدایت کا وقت قریب تھا، وہ ان باتوں سے متاثر ہوئے اور جب ہم حسب پروگرام چک نمبر ۴۳ میں چوہدری غلام حیدر صاحب احمدی کے ہاں جانے لگے اور گھوڑیوں پر سوار ہونے کو تھے کہ چوہدری علی بخش صاحب نے ایک آدمی کے ذریعہ پیغام بھجوایا کہ مولوی صاحب اگر آج رات یہاں ٹھہر جائیں تو میں ان کی تقریر تصوف اور فلسفہ ایمان پرسن کر حضرت مرزا صاحب اور اپنے پیروں کی تعلیم میں موازنہ کروں گا۔یہ پیغام سن کر سب احباب کو خوشی ہوئی اور میں نے ایک دن کے لئے اپنی روانگی ملتوی کر دی اور چوہدری غلام حیدر صاحب کو اس سے اطلاع دے دی۔چنانچہ وہ بھی چک نمبر ۴۳ سے میری تقریر سننے کے لئے پہنچ گئے۔رات کو میں نے تین گھنٹہ تک فلسفہ ایمان اور مسائل تصوف پر تقریر کی۔جس کو سن کر چوہدری علی بخش نے کہا کہ اگر میں ایک دن اور ٹھہر جاؤں تو وہ جلسہ سالانہ پر قادیان جانے کا وعدہ کرتے ہیں۔اس پر احباب نے خواہش کی کہ اب جبکہ چوہدری صاحب بہت کچھ نرم ہو چکے ہیں مزید ایک دن کے لئے ٹھہر کر اس موقع سے فائدہ اٹھاؤں۔چنانچہ میں ٹھہر گیا اور چوہدری صاحب اس دن کی تقریر اور گفتگو سے اس قدر متاثر ہوئے کہ بعض دوسرے دوستوں کے ساتھ مشورہ کرنے کی اور کے بعد سب نے بیعت کر لی۔فالحمد للہ علی ذالک دونوں خاندانوں کی خواہش تھی کہ نکاح میں پڑھاؤں انہوں نے زیادہ اصرار اس لئے بھی کیا کہ خاکسار حقیر خادم کو سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی صاحبزادی کے خطبہ نکاح پڑھانے