حیات قدسی — Page 541
۵۴۱ میں صبر کوصلوۃ پر مقدم کیا گیا ہے اور یہی طبعی ترتیب ہے۔صبر کے معنے ضبط نفس اور منہیات وممنوعات شرعیہ سے پر ہیز کرنا ہے۔ایک مریض جب کسی حاذق طبیب کے پاس آتا ہے تو وہ شفایابی کے لئے اس کو ہدایت کرتا ہے کہ اول وہ ان تمام مضرات سے بچے جو اس کی صحت کو خراب کرنے کا باعث ہوئے ہیں اور مکمل پر ہیز اختیار کرے۔اس کے بعد وہ ایسی اشیاء بطور ادویہ اور غذا کے مریض کو دیتا ہے جن کے استعمال سے اس کی صحت عود کر آئے اور اس کے جسم اور قومی میں طاقت پیدا ہو۔صبر پرہیز کا قائم مقام ہے اور صلوٰۃ مقوی دوا اور غذا کی قائم مقام ہے اور انسان کی روحانی صحت اور صلاحیت کے لئے ان دونوں تدابیر پر عمل کرنا نہایت ضروری ہے۔خدا تعالیٰ کا الصلوۃ سے پہلے صبر کو رکھنا اس وجہ سے ہے کہ انسان کو پہلے اپنے گنا ہوں سے تائب ہو کر اور کمزوریوں کو چھوڑ کر ہر قسم کے ممنوع اور غیر مشروع اعمال سے پر ہیز کرنا چاہیئے تا کہ اس کی نماز میں اسی طرح لذت ، رغبت اور دلی خواہش پیدا ہو جس طرح ایک تندرست انسان کو بھوک کی حالت میں کھانے کی لذت اور رغبت پیدا ہوتی ہے۔قرآن کریم میں تَامُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ 50 کے ارشاد میں بھی اسی مضمون پر روشنی ڈالی گئی ہے یعنی ایک طرف نیک کاموں کی تلقین کی جائے اور دوسری طرف بدیوں کو سے روکا جائے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان احکامِ خداوندی پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔بعض علمی لطائف بطور الغاز تبلیغی کام میں سوشل اور مجلسی تعلقات بہت مفید ہوتے ہیں۔مبلغ کے لئے ضروری ہے کہ وہ مجلسی علوم سے واقفیت رکھتا ہو۔میں نے بفضلہ تعالیٰ اس طریق سے بہت فائدہ اٹھایا ہے۔ایک عرصہ کی بات ہے کہ میں بسلسلہ تبلیغ ملتان گیا۔شہر کے قریب ہی ایک باغ تھا۔جس میں شہر کے علماء علمی مجالس منعقد کر کے اپنے لئے اور دوسروں کے لئے دلچسپی کا سامان بہم پہنچاتے تھے۔میں بھی تبلیغ کی غرض سے ان علماء کی جن میں اہل حدیث اور اہل شیعہ علماء بھی شامل تھے، مجلس میں حاضر ہوتا۔جس سے مختلف مسائل پر گفتگو کا موقع ملتا۔ایک دفعہ مجلس میں بعض چیستانی لطائف شروع ہو گئے۔ایک صاحب نے مندرجہ ذیل شعر بطور چیستان کے پیش کیا۔