حیات قدسی — Page 533
۵۳۳ جا کر دیکھوں گا اور حضرت رب العالمین کی ضرور زیارت کروں گا۔پھر میں اس قبہ نور کے قریب پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ سید نا حضرت محمود ایده الودود کی شکل میں جلوہ نما ہے اس کے بعد میری کشفی حالت جاتی رہی۔اس کشف کے چند دن بعد ہی سید نا محمود مسند خلافت ثانیہ پر رونق افروز ہوئے۔اللهم ایده و انصره بیٹا اور ملازم بیٹے اور ملازم کی حیثیت جدا گانہ ہوتی ہے ملازم اور خادم اپنے آقا اور مالک کا کام محض اجرت اور تنخواہ کے لئے کرتا ہے اور اس کو اپنے مفوضہ کام اور مزدوری کے لالچ کے سوا اپنے آقا سے اور کوئی سرو کار نہیں ہوتا لیکن بیٹا ملازموں اور خدام سے بہت بالا حیثیت رکھتا ہے وہ خود بطور مالک اور مختار کے ہوتا ہے۔بے شک وہ اپنے مقررہ فرائض اور کام کے اوقات کی بھی پابندی کرتا ہے لیکن مزدور اور ملازم کی طرح یہ نہیں ہوتا کہ مقررہ کام اور اوقات کے بعد اس کا اپنے باپ کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں رہتا بلکہ وہ بطور مختار و مالک کے اپنے باپ کے کام اور سرمایہ کے نفع و نقصان میں شریک اور اپنے باپ کی بہبودی خیر خواہی اور محبت کا اپنے آپ کو ہر طرح ذمہ دار اور مستحق سمجھتا ہے اور اپنے باپ کے کام رو پیدا اور نفع و نقصان کو اپنا کام ، رو پید اور نفع نقصان سمجھ کر شب و روز تندہی کے ساتھ خدمت میں مصروف رہتا ہے اس کے مد نظر باپ کی خوشنودی رضا اور اس کی خیر خواہی ہوتی ہے اور وہ ہر کام میں اپنے آپ کو باپ کے قائم مقام سمجھتا ہے نہ اس کو تنخواہ کا لالچ ہوتا ہے اور نہ مزدوری و انعام کی خواہش۔بیٹے کا باپ سے ایسا گہرا تعلق ہوتا ہے کہ ملازموں اور خادموں کو اس کا عشر عشیر بھی حاصل نہیں ہوتا۔بیٹا اپنے باپ کی جائداد بلکہ اخلاق و عادات اور صفات کا بھی وارث ہوتا ہے وہ رات دن اپنے باپ کے کام میں مستغرق رہنے کے باوجود کسی مزدوری کا طالب نہیں ہوتا بلکہ اس کو اپنے لئے موجب ہتک خیال کرتا ہے بسا اوقات وہ ملازموں سے کئی گنا زیادہ کام کرتا ہے لیکن پھر بھی کوئی اجرت طلب نہیں کرتا۔کیونکہ وہ جانتا ہے کہ جو کچھ اس کے باپ کا ہے وہ سب کچھ اسی کا ہے اور وہی اس کا وارث ہے۔پس باپ کی خوشنودی اور رضا اس کے لئے ہزار ہا تنخواہوں سے بڑھ کر ہوتی ہے۔یہی وہ بات ہے جس کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ