حیات قدسی

by Other Authors

Page 521 of 688

حیات قدسی — Page 521

۵۲۱ اب جس مذہب کا خدا لعنتی ٹھہرا جس کا بانی مسیح بھی لعنتی ٹھہرا اور اس کی شریعت بھی لعنت قرار پائی۔اس کی طرف کوئی غیر عیسائی لعنت سے بچنے اور نجات حاصل کرنے کے لئے کیونکر رجوع کرسکتا ہے۔جب عیسائی مذہب اپنے خدا کو لعنت سے نہ بچا سکا۔اپنے ہادی مذہب حضرت مسیح علیہ السلام کو لعنت سے نہ بچا سکا اور اپنی مسلمہ شریعت کو لعنت سے نہ بچا سکا تو اس سے یہ کیسے امید کی جا سکتی ہے کہ اس پر چل کر کوئی شخص لعنت سے بچ جائے گا۔یہ سوالات تو عیسائی مذہب کے اصول متعارفہ کی بنا پر پیش کئے گئے ہیں۔اب دوسری بات یہ عرض کی جاتی ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام قوم یہود کی طرف بھیجے گئے۔اور عیسائیوں نے آپ کو قبول کیا۔یہ دونوں قو میں جن کا آپ سے براہِ راست اور پہلا تعلق ہے مسیح کے صلیبی موت کی وجہ سے ملعون ہونے کی قائل ہیں۔اور اب تک اسی عقیدہ پر راسخ اور جمی ہوئی ہیں۔اگر لعنت کوئی اچھی چیز ہوتی تو اس کی وجہ سے شیطان اس قدر بد نام اور ذلیل نہ ہوتا لیکن اگر لعنت بری اور قابل نفرت چیز ہے تو جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ مسیح معلون ہوا۔ان کے مقابل پر وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ مسیح علیہ السلام ملعون نہیں ہوئے یقیناً بہتر اور حضرت مسیح علیہ السلام کی شان اور عزت کو قائم کرنے والے ثابت ہوتے ہیں۔میں نے اس نکتہ کو واضح کر کے روت صاحبہ کی فطرت اور عقل کو اپیل کی جس پر انہوں نے میرے ساتھ اتفاق کیا۔اور ان لوگوں کو اچھا قرار دیا جو مسیح علیہ السلام کو لعنت سے پاک اور مقدس و مظہر سمجھتے ہیں۔اس کے بعد میں نے عرض کیا کہ قوم نصاری اور یہود میں سے تو ایک بھی نظر نہیں آتا جو مسیح کی صلیبی اور لعنتی موت کا اقراری نہ ہو۔لیکن عرب کے صحرا اور ریگستان سے ایک مقدس وجو د مبعوث ہوا جس نے اعلان کیا۔کہ عیسائیوں اور یہودیوں کا یہ متفقہ عقیدہ کہ حضرت مسیح مصلوب و ملعون ہوئے۔ایک غلط فہمی کی بنا پر ہے اور حقیقتا مسیح مصلوب ہونے سے بچ گئے تھے۔اس مقدس انسان نے وحی الہی سے یہ اعلان کیا کہ مَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ۔یعنی مسیح قتل ہونے اور صلیبی موت سے مرنے سے بچ گئے۔اور اس بارہ میں یہود ونصاریٰ کو غلط فہمی اور شبہ ہوا۔اب قوم یہود و نصاری ایک طرف ہیں جو مسیح کے اپنے ہو کر بھی اس کو ملعون مانتے ہیں اور