حیات قدسی — Page 480
۴۸۰ صفت رحمانیت کا ظہور انواع و اقسام کی مخلوقات میں ہو رہا ہے۔لیکن اس سورۃ میں رحمانیت کے اس افاضہ کا ذکر خاص طور پر کیا گیا ہے۔جس کا تعلق انسان سے ہے۔اس افاضہ کے ذریعہ سے اس کو قانونِ شریعت کا علم دے کر اسے قانون کا حامل بنایا گیا ہے۔تا ایک طرف اسے اللہ تعالیٰ کی کامل معرفت حاصل ہو۔اور دوسری طرف مخلوقات کے ساتھ اس کے تمدنی و معاشرتی اور اخلاقی تعلقات متوازن و استوار ہوں۔اور وہ خدا تعالیٰ کی کامل محبت اور اطاعت اور عبادت سے اس کی خلافتِ کبری کے منصب جلیل پر فائز ہو۔اور مخلوق کا ہمدردو محسن ہونے سے مخلوق کی نمائندگی اور نیابت میں خلافت صغری کی عزت و برتری بھی حاصل کرے۔اور آیت بَلَى مَنْ أَسْلَمَ وَجُهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِن 1 کی رو سے اپنے خالق کا مسلم اور دلی فرمانبردار اور مخلوق کے لئے محسن اور دلی خیر خواہ بنے۔انسان کو مخدوم العالمین ہونے کا شرف اسی صورت میں حاصل ہوسکتا ہے کہ وہ معبود العالمین خدا کو اس کی شانِ الوہیت کے ہر مرتبہ میں واحد لا شریک یقین کرے۔اور اعتقادی اور عملی لحاظ سے اس یقین پر استوار ہو۔اور انفسی اور آفاقی طور پر اللہ تعالیٰ کی بے نظیر اور بے ہمت ذات کے ساتھ کسی چیز کو بھی شریک نہ ٹھہرائے۔انسان کے کفر و شرک یا فسق و فجور میں مبتلا ہونے کا اصل باعث اس کی علم صحیح سے محرومی ہے۔اور یہی جہالت کی ظلمت و تاریکی ہے۔جس سے انسان اپنی ہواؤ ہوس میں مبتلا ہو کر افراط و تفریط کی کبھی اختیار کر لیتا ہے۔اور اعتدال سے بھٹک جاتا ہے۔پس انسان کو اعلی استعداد میں عطا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے رحمانی فیض سے علم صحیح اور اس کے حصول کے سامان عطا فرمائے۔ایک طرف اس میں علم حاصل کرنے کی قابلیت ودیعت کی۔اور دوسری طرف معلم کی حیثیت میں اسے قوت بیا نیہ اور ملکہ تقریر عطا کیا۔یہ انسان کا ہی خاصہ ہے کہ وہ جو کچھ سیکھتا ہے۔اپنی قوت بیانیہ سے ہزار ہا دوسرے لوگوں کو سکھا سکتا ہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ کے انبیاء وحی الہی سے جو کچھ حاصل کرتے ہیں وہ دوسرے لوگوں کے سامنے بیان کر دیتے ہیں۔اور اسی طرح وہ لوگ بھی علم صحیح سے شناسا ہو جاتے ہیں۔سورہ رحمان میں اللہ تعالیٰ کی صفت رحمانیہ کے افاضات کو نمایاں طور پر پیش کیا گیا ہے۔انسان کی ابتدائی ضروریات عمومی رنگ میں چھ سمجھی جاتی ہیں۔یعنی ماکولات ، مشروبات، بول و براز ، ہوا اور نیند ، ان ضروریات کے پورا نہ ہونے پر انسان تکلیف محسوس کرتا ہے۔بلکہ انسانی زندگی کا قیام ان