حیات قدسی — Page 479
اس تکرار کا فقدان فرض کیا جائے تو سلسلہ موجودات کا فقدان لازم آتا ہے۔اور فنا اور عدم کا تصور پیدا ہوتا ہے۔مثال کے طور پر انسانی وجود کی تخلیق میں تکرار کے مسلسل نظارے سامنے آرہے ہیں۔اور پھر انسانی جسم کے اندر بھی باتوں کا بار بار تکرار صفت خلق کے ذریعہ سے ظہور میں آیا ہے۔ایسا ہی انسانی جسم میں دانتوں، پسلیوں ، آنتوں اور انگلیوں وغیرہ کا بھی تکرار ہے۔اسی طرح انسان کی ہر قوت اور حس اپنے وظیفہ کو تکرار کے ساتھ عمل میں لا رہی ہے۔یہ تکرار بے فائدہ اور عبث نہیں ہے بلکہ اپنے اندر بے شمار فوائد اور حسن کے پہلو رکھتا ہے۔درختوں کے پتوں، پھولوں اور پھلوں کے تکرار سے یقیناً ان میں نفع اور خوبصورتی کی زیادتی ہوتی ہے۔گلاب کے پھول کی ایک ایک پتی اپنے تکرار کی وجہ سے ہی خوشنما اور دلفریب نظر آتی ہے۔پس جب خدا تعالیٰ کی فعلی کتاب میں تکرار سے انواع واقسام کے محاسن پیدا ہوتے ہیں۔اور جس جگہ کسی عضو یا حصہ میں تکرار نہیں پایا جاتا۔اس کے فعل میں تکرار ضرور پایا جاتا ہے۔مثلاً انسانی جسم میں بالوں اور دانتوں وغیرہ میں تکرار ہے۔مگر منہ، زبان ، سر، دل اور جگر کے عضو میں تکرار نہیں پایا جا تا۔لیکن غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان اعضاء کے افعال میں تکرار پایا جاتا ہے۔” سورہ رحمان پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ کے الفاظ اکتیس دفعہ وارد ہوئے ہیں۔یہ سورہ شریفہ ان آیات سے شروع ہوتی ہے۔الرَّحْمَنُ۔عَلَّمَ الْقُرْآنَ خَلَقَ الْإِنْسَانَ عَلَّمَهُ الْبَيَانَ۔اَلشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانِ و النَّجمُ وَالشَّجَرُ يَسْجُدَانِ۔وَالسَّمَاءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ إِلَّا تَطَغَوْا فِي الْمِيزَانِ ، وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيزَانَ وَالْأَرْضَ وَضَعَهَا لِلَانَامِ فِيهَا فَاكِهَةٌ وَالنَّخْلُ ذَاتُ الاكْمَامِ وَالْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ وَالرَّيْحَانُ۔فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَان۔ان آیات سے ظاہر ہے کہ اس سورت کا آغاز خدا تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے اسم الرحمن سے فرمایا گیا ہے۔اور رحمن کا افاضہ اس رحم اور رحمت کے فیوض سے تعلق رکھتا ہے جن کا ظہور بغیر کسی محنت ، درخواست اور دعا کے خود بخود بلا کسی معاوضہ اور مبادلہ کے ہوتا ہے اور اگر چہ