حیات قدسی

by Other Authors

Page 478 of 688

حیات قدسی — Page 478

۴۷۸ توسیع کے متعلق ایک اعجازی نشان کا ذکر اس کتاب کی جلد سوم میں گذر چکا ہے۔جناب نواب صاحب یو۔پی کے ضلع فرخ آباد کے قصبہ عثمان گنج کے اصل باشندہ اور افغانوں کے آفریدی قبیلہ کے ایک معزز فرد ہیں۔اور ایک عرصہ سے حیدر آباد میں بسلسلہ ملا زمت اقامت گزیں ہیں۔آپ کی قانونی قابلیت مسلّم ہے۔قانون دان ہونے کے علاوہ آپ دینی علوم کے ماہر ، اخلاق فاضلہ میں نمونہ کے انسان اور مخلص خادم سلسلہ ہیں۔۱۹۳۵ء کے قریب جب میں حیدر آباد میں تبلیغی و تربیتی اغراض کے ماتحت نواب صاحب محترم کے ہاں ٹھہرا ہوا تھا۔تو ایک دن آپ نے ریاست کے معززین کو مدعوفر مایا۔چنانچہ مہا راجہ سرکشن پر شاد وزیر اعظم حیدر آباد اور بہت سے دوسرے وزراء و امراء دعوت میں شریک ہوئے۔جناب نواب صاحب نے سب معززین سے جن میں شاہی طبیب جناب حکیم مولوی مقصود علی صاحب بھی تھے۔میرا تعارف کرایا اور میرے متعلق یہ ذکر کیا کہ میں پنجاب سے آیا ہوں اور قرآنی حقائق و معارف کے متعلق اچھی واقفیت رکھتا ہوں۔اگر کوئی دوست قرآن کریم کے متعلق کوئی استفسار کرنا چاہیں تو فرما لیں۔ایک علمی سوال اس موقع پر حکیم مولوی مقصود علی صاحب نے کھڑے ہو کر سوال کیا کہ سورۃ الرحمان میں فَبِاتي الَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ کے تکرار میں کیا حکمت ہے۔سب حاضرین نے اس استفسار پر خوشی کا اظہار کیا۔خاکسار نے اللہ تعالی کے حضور جواب کے لئے توجہ کی اور اس سوال کا جواب حاضرین کے سامنے پیش کیا۔ذیل میں اس جواب کا خلاصہ تحریر کیا جاتا ہے۔میرا جواب قرآن کریم خدا تعالیٰ کا کلام ہے۔اور قانونِ قدرت اس کا فعل ہے۔گویا قرآن کریم خدا تعالیٰ کی قولی کتاب ہے۔اور قانونِ قدرت اس کی فعلی کتاب اور قول کی صداقت کے ثبوت کے لئے بہترین شہادت فعل سے ہی پیش کی جاسکتی ہے۔جب ہم قرآن کریم کی قولی کتاب کے مقابل پر خدا تعالیٰ کی فعلی کتاب پر نگاہ ڈالتے ہیں۔اور اس پر غور کرتے ہیں تو ہمیں صفات و افعالِ الہیہ کے ظہور میں ہر آن تکرار کا سلسلہ نظر آتا ہے اور اگر