حیات قدسی — Page 423
۴۲۳ تو انہیں یہ سمجھا دیا جائے کہ سب کی سب اکٹھی ٹھا کروں کے مقام معبد میں نہ گھسیں بلکہ نشست گاہ میں بیٹھیں اور ایک ایک کر کے معبد اصنام میں تشریف لائیں اور عمل پرستش کو بجالائیں۔میں نے عرض کیا بہت اچھا ایسا ہی کیا جائے گا۔اور جو آپ کی ہدایت ہے اسی کے مطابق عمل ہوگا۔لیکن میں نے ساتھ ہی یہ بھی عرض کیا کہ جناب مہنت صاحب یہ شاہزادی صاحبہ رات کو کیوں پوجا پاٹھ کے لئے تشریف لاتی ہیں۔دن کو کیوں تشریف نہیں لاتیں۔اس پر مہنت صاحب نے مجھے فرمایا کہنے کی بات نہیں یہ بات دل میں بھید کے طور پر رکھو کہ ایک مسلمان ہے ویسے تو شریف ہے اور شریف خاندان کا سنا جاتا ہے، وہ اس شاہزادی پر عاشق ہو چکا ہے۔اور یہ بھی سنا ہے کہ شاہزادی کو بھی اس مسلمان سے بے حد پریم ہے۔جس طرح وہ مسلمان چاہتا ہے کہ شاہزادی مجھے ملے ویسے ہی شاہزادی بھی چاہتی ہے کہ وہ مسلمان مجھے ملے۔میں نے تجاہل عارفانہ کے طور پر عرض کیا کہ ایک مسلمان کے ساتھ ہندوشاہزادی کی یہ خواہش کہ مسلمان مجھے ملے۔مہنت صاحب یہ کیا بات ہے؟ اس کی سمجھ نہیں آئی۔مہنت صاحب نے فرمایا۔بابا یہ پریم نگری کی باتیں اور ہی ہیں۔پریم اور عشق کے مذہب میں عاشق کا مذہب معشوق ہوتا ہے اور معشوق کا مذہب عاشق ہوتا ہے۔اور عشق دنیا کے سب مذہبوں سے نرالا مذہب رکھتا ہے۔پنجاب کے دیس کا ایک مشہور اشوک ہے۔جو عام لوگ بھی جانتے ہیں۔☆ بھکھ نہ منگے سالناعشق نہ پچھے ذات نیند رسوت نہ منگدی مری سکھ وہانی رات اسی طرح کی باتیں دیر تک ہوتی رہیں۔اور شاہزادی اور مسلمان کی محبت کا تذکرہ۔۔۔۔ہوتا رہا۔اور عجیب عجیب پیرایوں میں میں نے شاہزادی کی محبت کا کھوج نکالنے کے لئے مہنت صاحب سے واقعات سنے۔میں نے یہ بھی کہا کہ جناب مہنت صاحب ! شاہزادی کا یہ راز محبت جو آپ نے ذکر کیا ہے کیا یہ شاہزادی صاحبہ کی سہیلیوں کو بھی معلوم ہے۔تو مہنت صاحب فرمانے لگے آپ تو بھولے ہی ہیں جب یہ باتیں شہر کے محلوں کو چوں اور بازاروں تک پھیل چکی ہیں تو کیا سہیلیاں شاہزادی کے اس پریم کہانی اور فسانۂ عشق سے ابھی تک بے خبر ہی ہوں گی۔اس کے بعد مہنت صاحب فرمانے لگے۔میں تو اب سوجاتا ہوں اب آپ کے ذمہ ٹھا کر دوارے کی خدمت ہے۔چنانچہ وہ تو لیٹ گئے اور میں انتظار کی گھڑیاں شمار کرنے میں لگ گیا کہ کب شاہزادی تشریف لاتی ہیں۔اسی انتظار میں وقت گذر رہا تھا کہ گیارہ بارہ بجے کے قریب وقت پہنچ گیا۔اتنے میں کچھ فاصلہ سے آواز سنائی دی۔میں نے ٹھا کر دوارے کی طرف جا کر نشست گاہ کا دروازہ کھول دیا۔روشنی کا