حیات قدسی — Page 417
۴۱۷ دے دی۔خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ لیکچر حسب بشارت بہت ہی کامیاب رہا۔اور مفتی صاحب نے اس کے طبع کرانے پر شروع میں میرے اس کشف کا بھی ذکر کر دیا۔فالحمد للہ علی ذالک علم تعبیر یہ خدا تعالیٰ کا خاص فضل و احسان ہے کہ اس نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی برکت سے اس عاجز کو علم تعبیر رویا سے بھی نوازا ہے۔چنانچہ بسا اوقات خاکسار کو خوابوں کی صحیح تاویل اور تعبیر اللہ تعالیٰ کی طرف سے تفہیم ہو جاتی ہے۔اکثر دور و نزدیک سے احباب اپنی خوابوں کی تعبیریں مجھ سے دریافت کرتے رہتے ہیں۔کسی رویا کی صحیح تعبیر تو خدا تعالیٰ کے فعل سے ہی سمجھ میں آتی ہے۔اس لئے کہ ایسی رؤیا اور خواب من جانب اللہ ہو اور روح القدس کے نتیجہ سے تعلق رکھتی ہو۔اللہ تعالیٰ کے قول کے قائمقام سمجھی جاسکتی ہے۔اور اللہ تعالیٰ کے قول کی تصدیق اس کے فعل سے ہی ہوتی ہے۔پس قبل از وقت کسی خواب کی تعبیر یا تاویل اندھیرے میں تیر چلانے کے مترادف ہے جو کبھی نشانہ پر لگ جاتا ہے اور کبھی خطا ہو جاتا ہے۔ایک مثال ایک دفعہ ایک مجلس میں ایک مدرس نے مجھ سے کہا کہ میں نے رویا میں دیکھا ہے کہ میرے سامنے کے دو دانت گر گئے ہیں۔میں نے پوچھا کہ آپ کیا کام کرتے ہیں۔کہنے لگے کہ میں مدرس ہوں۔سکول میں لڑکوں کو تعلیم دیتا ہوں۔میں نے پوچھا کہ آپ کے والدین زندہ ہیں یا فوت ہو چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ فوت ہو چکے ہیں۔یہ سن کر میں نے کہا کہ آپ کا افسر جب سکول کے معائنہ کے لئے آئے گا تو دور و پیہ آپ کو جرمانہ کرے گا۔اور اس طرح دو روپیہ کے نقصان و تنزل سے یہ رویا پورا ہوگا۔اس پر اس نے کہا کہ دودانت زمین پر گرنے کے بعد پھر میں نے اٹھالئے ہیں۔اور ان کی جگہ پر رکھ لئے ہیں۔میں نے کہا کہ دو روپیہ کی کٹوتی اور تنزل کے بعد اس کو پھر بحال کر دیا جائے گا۔ابھی چند دن ہی گزرے تھے کہ افسر ممتحن نے بعض غلطیوں کی بنا پر اس مدرس کو دو روپیہ جرمانہ کیا۔لیکن پھر اس کی درخواست معافی پر تنزل کی صورت کو بحال کر دیا۔چنانچہ وہ مدرس صاحب اس