حیات قدسی — Page 389
۳۸۹ ہیں۔یہ حسرت ہے کہ کاش! جوان ہوتا تو خدمت دین احسن رنگ میں بجا لاتا۔اس عریضہ میں میں نے اپنی ایک عربی رباعی بھی تحریر کی۔جو یہ ہے - وَلَوْ عَادَ الشَّبَـــابُ وَصِرْتُ شَــــابــــا لَادْرَكْتُ الصَّلاحَ وجَبْرَ مَا فَات ولكن قد مضى مِنْ غَيْرِ عَوْدٍ قُلْتُ تَأسُّفًا هَيْهَاتَ هَيْهَات حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس عریضہ کے جواب میں فرمایا کہ ہم آپ کے لئے دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو لمبی عمر دے تا اور بھی زیادہ آپ دین کی خدمت کر سکیں“ ایک دلچسپ گفتگو ایک مجلس میں ایک غیر احمدی مولوی صاحب نے تقریر کی اور کہا کہ مرزائی لوگ حضرت مسیح کی نسبت کہتے ہیں کہ وہ مر گئے ہیں۔اگر وہ واقعی مرگئے ہیں تو عربی زبان میں مَاتَ عِیسی کا فقرہ قرآن کریم سے دکھا ئیں۔اور اگر ایسا نہ دکھا سکیں۔تو تمام مسلمان یا د رکھیں کہ مرزائی اپنے دعوے میں جھوٹے ہیں۔میں نے جوابا عرض کیا کہ مولوی صاحب ! کیا آپ کے نزدیک پہلے نبیوں اور رسولوں میں سے کوئی نبی یا رسول فوت بھی ہوا ہے یا نہیں۔کہنے لگے۔حضرت مسیح کے سوا سب نبی اور رسول فوت ہو چکے ہیں۔میں نے کہا۔جس معیار کو آپ نے پیش کیا ہے۔اس کے رُو سے تو کوئی نبی وفات یافتہ ثابت نہیں ہوتا۔کیا آپ قرآن سے دکھا سکتے ہیں کہ مَاتَ ادَمُ يَا مَاتَ نُوحٌ يَا مَاتَ إِبْرَاهِيمُ يا مات موسی کے الفاظ اس میں فرمائے گئے ہوں۔اگر ایسا نہیں تو کیا آپ کے نزدیک یہ سب نبی ابھی تک فوت نہیں ہوئے۔اور زندہ ہیں اگر آپ ان کو فوت شدہ تسلیم کرتے ہیں تو بتائیں کہ مات کے لفظ کے استعمال کے بغیر کونسی دلیل آپ کے نزدیک ان کی وفات کو ثابت کرتی ہے۔تا میں اسی معیار کے ذریعہ سے حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات کا ثبوت پیش کر سکوں۔یہ سن کر مولوی صاحب کچھ کھسیانے سے ہو گئے اور فرمانے لگے کہ رَافِعُكَ إِلَيَّ اور بَلْ رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ کے الفاظ سے