حیات قدسی — Page 25
۲۵ ہوئے ہیں۔(۱۰) خدا کی قسم جو قادیان میں روحانی بادشاہ بن کر آئے ہیں وہی امام مہدی ہیں۔(۱۱) جو بدنصیب ہیں اور ان پر نفسانی اور شیطانی خواہشیں غالب ہیں وہ ان کو قبول نہیں کرتے۔(۱۲) جو امام مہدی کو مانتے ہیں ان پر خدا اور اس کا رسول راضی ہے لیکن جو منکر ہیں وہ سخت خسارہ میں ہیں۔موضع دھد رہا کا واقعہ ایسا ہی موضع ڈھد رہا میں جو ہمارے گاؤں سے جانب جنوب مغرب ایک کوس کے فاصلہ پر واقع ہے جب میں تبلیغ کے لئے جاتا تو وہاں کا ملاں محمد عالم لوگوں کو میری باتیں سننے سے روکتا اور اس فتوی کفر کی جو مجھ پر لگایا گیا تھا جا بجا تشہیر کرتا۔آخر اس نے موضع مذکور کے ایک مضبوط نوجوان جیون خاں نامی کو جس کا گھرانہ جتھے کے لحاظ سے بھی گاؤں کے تمام زمینداروں پر غالب تھا۔میرے خلاف ایسا بھڑ کا یا کہ وہ میرے قتل کے درپے ہو گیا اور مجھے پیغام بھجوایا کہ اگر تم اپنی زندگی چاہتے ہو تو ہمارے گاؤں کا رخ نہ کرنا اور نہ پچھتانا پڑے گا۔میں نے جب یہ پیغام سنا تو دعا کے لئے نماز میں کھڑا ہو گیا اور خدا کے حضور گڑ گڑا کر دعا کی تب اللہ تعالیٰ نے جیون خاں اور ملاں محمد عالم کے متعلق مجھے الہاماً بتایا کہ:۔تبت یدا ابي لهب و تب۔ما أغنى عنه ماله وما كسب۔اس القاء ربانی کے بعد مجھے دوسرے ہی دن اطلاع ملی کہ جیون خاں شدید قولنج میں مبتلا ہو گیا ہے اور ملاں محمد عالم ایک بداخلاقی کی بناء پر مسجد کی امامت سے علیحدہ کر دیا گیا ہے۔پھر قولنج کے دورہ کی وجہ سے جیون خاں کی حالت تو یہاں تک پہنچی کہ چند دنوں کے اندر وہ قوی ہیکل جوان مشت استخوان ہو کر رہ گیا۔اور اس کے گھر والے جب ہر طرح کی چارہ جوئی کر کے اس کی زندگی سے مایوس ہو گئے تو اس نے کہا کہ میرے اندر یہ وہی چھریاں اور کلہاڑیاں چل رہی ہیں جن کے متعلق میں نے میاں غلام رسول را جیکی والے کو پیغام دیا تھا۔اگر تم میری زندگی چاہتے ہو تو خدا کے لئے اسے راضی کرو اور میرا گناہ معاف کراؤ ورنہ کوئی صورت میرے بچنے کی نہیں۔آخر اس کے نو دس رشتہ دار