حیات قدسی — Page 380
۳۸۰ وهم العام ان لیلی تبرقعت وللخاص جلوة حسن ليلى برؤيته بنادى العشاق وفي كل جانب تعالوا إلـى الـمـحـبـوب حجا لكعبته وان من الحجاج من زار بلية وَإِن زار ربَّ البيـــــت فــــاز بـحــجـــــه ومن يـصبــغــن بـصبـغـة الـلـه نـفـســه فقد حج مبرورا بنيل حقيقته یری کل قدسي جمال حبيبه و مثلى ليحي حسرة عند فرقته الهی بوجهک اعطني من محبةٍ الا مالعبدك من مقدر خيبته سالتك عشقک مرةً بعد مَرَّةٍ فاين الهى وقت نیل محبته وانی غلام للرسول محمد و خادم احمد احمدي بنسبته و راجی بفضلك طـالـب الفوز رحمةً فهل للسؤل مـن الـعـطـا يا برحمته علاج بالامثال(هومیوپیتھی) جب میں لاہور میں مقیم تھا تو ایک دفعہ ایک ڈاکٹر صاحب نے جو میرے حلقہ درس میں موجود تھے۔بتایا کہ آج کل امریکہ والوں نے معالجات میں بہت ترقی کی ہے۔اور انسان کے ہر عضو کے مقابل پر علاج بالا مثال کے طور پر کامیابی حاصل کی ہے۔یعنی اگر کسی شخص کا دماغ کمزور ہے تو اس کے لئے کسی جوان اور تندرست بکرے کا مغز استعمال کرایا جاتا ہے۔وغیرہ وغیرہ میں نے عرض کیا کہ امریکہ والوں کو تو آج ہزار ہا تجربات کے بعد یہ طریق علاج معلوم ہوا ہے لیکن قرآن کریم میں یہ طریق علاج تیرہ سو سال سے بھی پہلے بیان کیا گیا ہے۔مجھ سے یہ سن کر ڈاکٹر صاحب متعجب ہوئے۔اور فرمانے لگے کہ ہم نے تو بارہا قرآن کریم پڑہا ہے ہمیں تو اس میں کبھی اس طریق علاج کا بیان نظر نہیں آیا۔میں نے کہا جس طرح احمدیت سے پہلے آپ کو یہ نظر نہ آتا تھا کہ وفات مسیح کا ذکر بھی قرآن کریم میں ہے اور اب سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی برکت اور فیض سے جابجا قرآن کریم میں وفات مسیح کی آیات نظر آتی ہیں۔اسی طرح قرآن کریم میں بہت سی مخفی صداقتیں اور حقائق ہیں جو زیادہ گہرے مطالعہ اور اللہ تعالیٰ کی تائید سے ظاہر ہوتے ہیں۔چنانچہ میں نے بیان کیا۔کہ قرآن کریم میں آیت قُلْ كُلٌّ يَعْمَلُ عَلَى شَاكِلَتِهِ 60 میں علاج بالا مثال کی حقیقت کو واضح کیا گیا ہے۔جس کے معنیٰ یہ ہیں کہ اس بات کا اظہار کر دیا جائے کہ